علی امامِ من است و منم غلامِ علی

فرزند علی سرور ہاشمی

تیرہ رجب تا اکیس رمضان کے سفر میں امتیازات در امتیازات، انفرادیت دَر انفرادیت ہے۔ اس لیے کہ یہ تذکرہء بُوترابؓ ہے جن کی آمد اور روانگی بے مثل ہے۔ خانہ ء خدا میں پیدا ہونے والے خدا کے گھر میں، خدا کے نام پہ فدا گئے۔ یہ انسانیت کی معراج ہے کہ جب مالکِ کائنات کسی کو ممتاز کرنا چاہتا ہے تو اس کا انداز اور اس کے سبھی طور اطوار بدل دیتا ہے۔ ان کا آنا اور جانا ایک جہان دیکھتا ہے۔ مالک جان طلب کرے تو یہ جاں وارنے میں دیر نہیں کرتے، قربان قربان جاتے ہیں۔ اللہ اور اس کے محبوبؐ کی خاطر مولا علیؓ اور اولادِ علیؓ قربان گئی، تاریخ جس پہ انگشتِ بدنداں ہے۔ مولا علیؓ کے باب میں چند احادیثِ نبوی کے مفاہیم ملاحظہ کیجئے:
”اے بنی نوع انسان میں تم میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے، اللہ تعالی کی کتاب اور میری عترت اہلبیت“۔”اللہ تعالیٰ اس شخص کو دوست رکھتا ہے جو علی کو دوست رکھتا ہے اور یقیناََ اللہ تعالیٰ اس شخص کا دشمن ہے جو علی کا دشمن ہے“۔”ضرور بالضرور میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ جل جلالہ اوراس کے رسولؐ کو دوست رکھتا ہے نیز خداوند تعالیٰ اور اس کا رسولؐ اس شخص سے محبت کرتے ہیں جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا۔ آنجنابؐ کا ہر ایک صحابی اس کا خواہش مند ہوا تو پیغمبرؐ نے وہ جھنڈا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو دے دیا“۔”تُو میرے نزدیک مرتبہ کے لحاظ سے ایسا ہے جیسا کہ ہارونؑ کا مرتبہ موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھا، مگر یہ کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں“۔ ”علی المرتضیؓ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ ہر مومن کے ولی ہیں“۔ ”اے علی! غور سے سنو کہ تُو میرا مخلص ترین دوست ہے اور میرا امانت دار ہے“۔ ”جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے“۔”میرے بعد ہر ایک مومن کا ولی علی ہے“۔”علی المرتضیؓ کی محبت مومن ہونے کی علامت ہے اور آپؓ کی عداوت منافق ہونے کی نشانی ہے“۔
قرآن کریم نے اہل بیت کی محبت کا تقاضا ان الفاظ میں کیا ہے، ترجمہ ملاحظہ کیجئے: ”تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت“۔ سرکار صلعم نے قرابت داروں کی محبت کا تقاضا ہی تو کیا ہے۔ حق یہ ہے کہ یہ محبت نصیب والوں کو میسر آتی ہے،جس کے لئے دل کو طالب ہونا پڑتا ہے۔ طلب ہر دم پلتی رہے، چنگاری ہر ساعت سلگتی رہے، یہ کبھی مدھم نہ پڑے۔ آئیے! یہ محبت کا جلوہ خدائے سخن میر تقی میر کے ہاں دیکھتے ہیں:
ہادی علی رفیق علی رہنما علی
یاور علی ممدّ علی آشنا علی
مرشد علی کفیل علی پیشوا علی
مقصد علی مراد علی مدعا علی
جو کچھ کہو سو اپنے تو ہاں مرتضے علی
ہر وہ شخص، ہر وہ شے جو محبوب سے منسوب ہواور محبوب کا ذکر کرے، وہ آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے اور اس سے دل قرار پاتا ہے۔ مولا علیؓ کی ذات گرامی بھی ایسی ہے کہ جو دل حضرت علیؓ کی محبت میں دھڑکے اور جو زبان علی علی کہے، وہ دل کے قریں ہو جاتی ہے۔ آدمی اس کی جانب لپکتا ہے اور لپکتا چلا جاتا ہے۔ مولا علی کی نسبت دِلوں کو جوڑتی، قریب کر تی اور فاصلے مٹا دیتی ہے۔ جن کو یہ محبت میسر آئے، وہ شکل و شبہات، ہیئت، ذات اور نسل کے اعتبار سے مختلف ہو سکتے ہیں مگر وہ جڑے ایک ہی مرکز سے ہوتے ہیں۔ یہ مرکز دَرِ علی ہے۔ یہ جس کو نصیب ہو جائے، ہو جائے۔ تاہم! یہ نسبتیں ہمارا اثاثہ ہیں۔ جہاں سے علی علی کی صدا برآمد ہو، ہمیں اس جا، ہمیں اس خاک اور خاک کے ذروں سے بھی محبت ہے۔ غالب نے کہا تھا:
؎غالب ندیمِ دوست سے آتی ہے بُوئے دوست
مشغولِ حق ہوں بندگیِ بُوتراب میں
اسے تجربہ کہیں یا مشاہدہ، اقبال کے بقول عشق کی اک جست قصہ تمام کر دیتی ہے۔ برسوں، عشروں اور صدیوں کا سفر ثانیوں میں طے ہوتا ہے۔ زاہد عاشق کو تکتا جاتا ہے۔ ریاضت مشغول رکھتی ہے مگر عشق سرخرو کرتا ہے۔ یہ محبت، یہ عشق بذاتِ خود انعام ہے اور جنھیں یہ انعام ملے، وہ انعام یافتہ کہلاتے ہیں، پھر انعام یافتہ لوگوں کی تقلید کی جاتی اور ان کی راہ پہ چلنے کی دعا کی جاتی ہے۔ یہ راہِ محبت ہے۔ محبت سے خدا ملتا ہے، رسولﷺ ملتے ہیں اور پھر اس کی محبت ملتی ہے جس سے خدا اور رسولؐ دونوں محبت کرتے ہیں۔ محبت مسافر کا سفر سہل کرتی ہے، گویا پار لگاتی ہے۔ محبتِ علیؓ محبتِ نبیؐ ہے اور محبت نبیؐ محبتِ الٰہی ہے۔ یہ خالص محبت کی تکون ہے، جس کے ہر زاویے سے محبت کے سوتے پُھوٹتے ہیں۔ محبت کے ایک ایسے ہی شعلے نے میر انیس کو چکاچوند کر دیا تھا:
علی مخبر، علی صادق، علی بینا، علی سامع
علی فائق، علی فاتح، علی مانع، علی قانع
علی امر و علی نہی و علی حاکم، علی نافع
علی شافع، علی نافع، علی رافع، علی واقع
علی جامع، علی قاطع، علی حجت، علی برہاں
یہ محبتِ علیؓ ہے۔ یہ جامِ محبتِ علی ہے۔ یہ جام پی لینا چاہئے مگر سوال باردگر یہی ہے کہ پیاس کی شدت کتنی ہے۔ یہ پیاس جسم و جاں سے کس قدر ظاہر ہے۔ پیاس دل سے آہ بن کر نکلتی ہے، آنکھ سے آنسو بن کر ٹپکتی ہے اور زبان سے دعا کی صورت میں ادا ہوتی ہے۔ یہ پیاس متاعِ حیات ہے۔ یہ تڑپ یار کی دَین ہے۔ یہ پیاس جس دَر سے عطا ہوتی ہے، بجھتی بھی وہیں سے ہے اور یہاں تذکرہِ درِ علی ہے،

علی امامِ من است و منم غلامِ علی
فرزند علی سرور ہاشمی
تیرہ رجب تا اکیس رمضان کے سفر میں امتیازات در امتیازات، انفرادیت دَر انفرادیت ہے۔ اس لیے کہ یہ تذکرہء بُوترابؓ ہے جن کی آمد اور روانگی بے مثل ہے۔ خانہ ء خدا میں پیدا ہونے والے خدا کے گھر میں، خدا کے نام پہ فدا گئے۔ یہ انسانیت کی معراج ہے کہ جب مالکِ کائنات کسی کو ممتاز کرنا چاہتا ہے تو اس کا انداز اور اس کے سبھی طور اطوار بدل دیتا ہے۔ ان کا آنا اور جانا ایک جہان دیکھتا ہے۔ مالک جان طلب کرے تو یہ جاں وارنے میں دیر نہیں کرتے، قربان قربان جاتے ہیں۔ اللہ اور اس کے محبوبؐ کی خاطر مولا علیؓ اور اولادِ علیؓ قربان گئی، تاریخ جس پہ انگشتِ بدنداں ہے۔ مولا علیؓ کے باب میں چند احادیثِ نبوی کے مفاہیم ملاحظہ کیجئے:
”اے بنی نوع انسان میں تم میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے، اللہ تعالی کی کتاب اور میری عترت اہلبیت“۔”اللہ تعالیٰ اس شخص کو دوست رکھتا ہے جو علی کو دوست رکھتا ہے اور یقیناََ اللہ تعالیٰ اس شخص کا دشمن ہے جو علی کا دشمن ہے“۔”ضرور بالضرور میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ جل جلالہ اوراس کے رسولؐ کو دوست رکھتا ہے نیز خداوند تعالیٰ اور اس کا رسولؐ اس شخص سے محبت کرتے ہیں جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا۔ آنجنابؐ کا ہر ایک صحابی اس کا خواہش مند ہوا تو پیغمبرؐ نے وہ جھنڈا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو دے دیا“۔”تُو میرے نزدیک مرتبہ کے لحاظ سے ایسا ہے جیسا کہ ہارونؑ کا مرتبہ موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھا، مگر یہ کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں“۔ ”علی المرتضیؓ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ ہر مومن کے ولی ہیں“۔ ”اے علی! غور سے سنو کہ تُو میرا مخلص ترین دوست ہے اور میرا امانت دار ہے“۔ ”جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے“۔”میرے بعد ہر ایک مومن کا ولی علی ہے“۔”علی المرتضیؓ کی محبت مومن ہونے کی علامت ہے اور آپؓ کی عداوت منافق ہونے کی نشانی ہے“۔
قرآن کریم نے اہل بیت کی محبت کا تقاضا ان الفاظ میں کیا ہے، ترجمہ ملاحظہ کیجئے: ”تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت“۔ سرکار صلعم نے قرابت داروں کی محبت کا تقاضا ہی تو کیا ہے۔ حق یہ ہے کہ یہ محبت نصیب والوں کو میسر آتی ہے،جس کے لئے دل کو طالب ہونا پڑتا ہے۔ طلب ہر دم پلتی رہے، چنگاری ہر ساعت سلگتی رہے، یہ کبھی مدھم نہ پڑے۔ آئیے! یہ محبت کا جلوہ خدائے سخن میر تقی میر کے ہاں دیکھتے ہیں:
ہادی علی رفیق علی رہنما علی
یاور علی ممدّ علی آشنا علی
مرشد علی کفیل علی پیشوا علی
مقصد علی مراد علی مدعا علی
جو کچھ کہو سو اپنے تو ہاں مرتضے علی
ہر وہ شخص، ہر وہ شے جو محبوب سے منسوب ہواور محبوب کا ذکر کرے، وہ آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے اور اس سے دل قرار پاتا ہے۔ مولا علیؓ کی ذات گرامی بھی ایسی ہے کہ جو دل حضرت علیؓ کی محبت میں دھڑکے اور جو زبان علی علی کہے، وہ دل کے قریں ہو جاتی ہے۔ آدمی اس کی جانب لپکتا ہے اور لپکتا چلا جاتا ہے۔ مولا علی کی نسبت دِلوں کو جوڑتی، قریب کر تی اور فاصلے مٹا دیتی ہے۔ جن کو یہ محبت میسر آئے، وہ شکل و شبہات، ہیئت، ذات اور نسل کے اعتبار سے مختلف ہو سکتے ہیں مگر وہ جڑے ایک ہی مرکز سے ہوتے ہیں۔ یہ مرکز دَرِ علی ہے۔ یہ جس کو نصیب ہو جائے، ہو جائے۔ تاہم! یہ نسبتیں ہمارا اثاثہ ہیں۔ جہاں سے علی علی کی صدا برآمد ہو، ہمیں اس جا، ہمیں اس خاک اور خاک کے ذروں سے بھی محبت ہے۔ غالب نے کہا تھا:
؎غالب ندیمِ دوست سے آتی ہے بُوئے دوست
مشغولِ حق ہوں بندگیِ بُوتراب میں
اسے تجربہ کہیں یا مشاہدہ، اقبال کے بقول عشق کی اک جست قصہ تمام کر دیتی ہے۔ برسوں، عشروں اور صدیوں کا سفر ثانیوں میں طے ہوتا ہے۔ زاہد عاشق کو تکتا جاتا ہے۔ ریاضت مشغول رکھتی ہے مگر عشق سرخرو کرتا ہے۔ یہ محبت، یہ عشق بذاتِ خود انعام ہے اور جنھیں یہ انعام ملے، وہ انعام یافتہ کہلاتے ہیں، پھر انعام یافتہ لوگوں کی تقلید کی جاتی اور ان کی راہ پہ چلنے کی دعا کی جاتی ہے۔ یہ راہِ محبت ہے۔ محبت سے خدا ملتا ہے، رسولﷺ ملتے ہیں اور پھر اس کی محبت ملتی ہے جس سے خدا اور رسولؐ دونوں محبت کرتے ہیں۔ محبت مسافر کا سفر سہل کرتی ہے، گویا پار لگاتی ہے۔ محبتِ علیؓ محبتِ نبیؐ ہے اور محبت نبیؐ محبتِ الٰہی ہے۔ یہ خالص محبت کی تکون ہے، جس کے ہر زاویے سے محبت کے سوتے پُھوٹتے ہیں۔ محبت کے ایک ایسے ہی شعلے نے میر انیس کو چکاچوند کر دیا تھا:
علی مخبر، علی صادق، علی بینا، علی سامع
علی فائق، علی فاتح، علی مانع، علی قانع
علی امر و علی نہی و علی حاکم، علی نافع
علی شافع، علی نافع، علی رافع، علی واقع
علی جامع، علی قاطع، علی حجت، علی برہاں
یہ محبتِ علیؓ ہے۔ یہ جامِ محبتِ علی ہے۔ یہ جام پی لینا چاہئے مگر سوال باردگر یہی ہے کہ پیاس کی شدت کتنی ہے۔ یہ پیاس جسم و جاں سے کس قدر ظاہر ہے۔ پیاس دل سے آہ بن کر نکلتی ہے، آنکھ سے آنسو بن کر ٹپکتی ہے اور زبان سے دعا کی صورت میں ادا ہوتی ہے۔ یہ پیاس متاعِ حیات ہے۔ یہ تڑپ یار کی دَین ہے۔ یہ پیاس جس دَر سے عطا ہوتی ہے، بجھتی بھی وہیں سے ہے اور یہاں تذکرہِ درِ علی ہے، دنیاکی ساری محبتیں جس دَر سے جِلا پاتی ہیں۔ محبتِ علی اور جامِ علی کا عکس درج ذیل اشعار میں دیکھئے جن کا انتساب لعل شہباز قلندر سے ہے:
جام مہر علی ز در دستم
بعد از جام خوردم مستم
کمر اندر قلندری بستم
از دل پاک حیدری ہستم
رمضان کی ان سعید ساعتوں میں، مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی خدمتِ اقدس میں اس خاکِ درِ اہلبیت کا یہ ہدیہ ء عقیدت و مودّت پیشِ خدمت ہے۔ اس لئے کہ دل اس جانب کھنچا چلا جاتا ہے، کسی دوسرے امر میں یکسر قرار نہیں۔ میرے اطمینان کی جا یہی ہے۔ جسم و جاں منبع ولایت کی طرف مائل ہیں۔ قلب اسی ذکر میں مصروفِ عمل ہے، اس لیے کہ ذکرِ علی عبادت ہے۔ محبوب کا ذکر قلوب کو ذاکر بنا دیتا ہے۔ مناقبِ علی کے باب میں میرے قلم کو یہ جنبش عطا ہوئی تھی:
؎ذاکرِ قلب ہونے کی خواہش ہوئی
ذکر مجھ کو ملا یا علی یا علی

اپنا تبصرہ بھیجیں