نبی کریم ؐ کی بچوں سے محبت

اشعرعمران قریشی

تاریخ عالم اس محبت، الفت اور شفقت کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے جو حضورؐ کریم نے بچوں کے ساتھ کیا تھا آپؐ نے اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود مبارک زندگی کو جس حسن و خوبی کے ساتھ گزارا جب تک دنیا کا وجود قائم ہے بچوں سے محبت و الفت کا یہ کامل نمونہ شمع ہدایت بن کر چمکتا رہے گا۔ آپ ؐ کا معمول تھا کہ جب کبھی سفر یا کسی غزوہ سے واپس آتے تو پہلے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہرا عنہا ؓ کے لئے ضرور کھانے پینے کی کوئی چیز لاتے۔حضورؐ باہر سے تشریف لاتے اور سواری پر ہوتے تو جو بچے مل جاتے انھیں اپنے ساتھ آگے بٹھا لیتے تھے حضورؐ راستہ میں چلتے وقت بچوں کو خود سلام کرتے۔ ایک غزوہ میں چند بچے بھی مر گئے آپؐ نے ان کا بہت غم کیا۔ کسی صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! وہ مشرکوں کے بچے تھے۔ حضور ؐ نے فرمایا: خبردار بچوں کو قتل نہ کرنا،خبر دار بچوں کو قتل نہ کرنا۔ دو دفعہ فرمایا پھر فرمایا ”ہر بچہ اللہ کی فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے“۔ آپؐ کسی ماں کو دیکھتے جو اپنے بچے سے پیار کر رہی ہے تو بہت متاثر ہوتے۔ ماؤں اور بچوں کی محبت کے قصے سنتے تو فرماتے ”جسے اللہ اولاد کی نعمت دے اور وہ اولاد کا حق بجا لائے وہ دوزخ کی آگ سے محفوظ رہے گا“حضور ؐ بچوں سے دلگی کی باتیں بھی کیا کرتے۔ اُمِ خالد چھوٹی تھیں ایک دفعہ وہ سرخ رنگ کا کرتہ پہنے نظر آئیں تو ان سے فرمایا ”سنہہ سنہہ“ حبشی زبان میں سنہہ کے معنی خوشنما کے ہیں۔ حضرت اُمِ خالد کی پیدائش اتفاق سے حبش کی تھی اور ان کا کچھ وقت وہاں گزرا تھا۔ اس مناسبت سے آپؐ نے حبشی زبان کا لفظ استعمال کیا۔ کوئی شخص جب کوئی پھل فروٹ نذر کرتا تو آپؐ حاضرین میں سب سے پہلے بچوں میں بانٹتے۔ ایک دفعہ حضورؐ بچوں سے پیار محبت کر رہے تھے کہ کسی کی زبان سے نکلا کہ میرے دس بچے ہیں میں تو اپنی بچوں کو کبھی نہیں چومتا۔ حضورؐ نے فرمایا تمہارے دل سے اللہ محبت سلب کر لے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ ایک دفعہ حضورؐ نماز ادا کر رہے تھے کہ حضرت حسینؓ جو اس وقت بچے تھے آپؐ کے کندھوں پر سوار ہو گئے آپؐ اتنی دیر تک سجدے میں رہے جب تک وہ خود نہیں اتر گئے۔ غزوہ احد کے دوران نو عمر بچے بھی جہاد کے شوق میں گھروں سے نکل کر مجاہدین کی صف میں شامل ہو گئے۔ انہی بچوں میں سے دو نو عمر بچے رافع بن خدیج ؓ اور سمرہ بن جندبؓ بھی شامل تھے حضورؐ کو بچوں کی شرکت کا علم ہوا تو چودہ سال سے کم عمر بچوں کو واپس جانے کا حکم دیا رافع بن خدیجؓ کو خدشہ تھا کہ انہیں کم عمری کے باعث اجازت نہیں ملے گی چنانچہ صفوں کے معائنے کے دوران انھوں نے پنجوں کے بل کھڑا ہو کر خود کو بڑا ظاہر کرنے کی کوشش کی اور عرض کیا یا رسول اللہؐ گو میری عمر کم ہے مگر میں ایک اچھا تیر انداز ہوں اس لئے مجھے اجازت دے دی جائے۔ آپؐ نے نشانہ بازی کا ٹیسٹ لیا تو وہ کامیاب ہو گئے چنانچہ انھیں اجازت مل گئی جب سمرہ بن جندبؐ کی باری آئی تو انھوں نے کہا کہ مجھے بھی اجازت دی جائے کیونکہ میں رافع ؓ سے زیادہ طاقتور ہوں۔ حضورؐ نے انھیں بھی غزوہ احد میں شرکت کرنے کی اجازت دے دی۔ نبی اکرم ؐ کو سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ ہمارے دین میں ہر اچھی بات حق ہے۔ مسلمانوں کو عملی زندگی میں ہر ایک سے محبت اور پیار سے پیش آنا چاہیے جس میں بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں