قیام پاکستان، حضرت اقبالؒ اور قائد اعظمؒ

ڈاکٹرا پیر ظہیر عباس قادری

قیام پاکستان فیضان الہی ٰ کاپرتو اور رسول محتشم ؐ کی نگاہ خاص کا تحفہ ہے۔ان شا اللہ قائد اعظم کا پاکستان صبح قیامت تک قائم و دائم رہے گا۔اللہ تعالی نے تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کی صداقت کو اجاگر کرنے کیلئے برصغیر کے مسلمانوں کو حضرت علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کی صورت میں ایسے راہبر عطا کردیئے جن کی قیادت و سعادت نعمت غیر مترقبہ تھی۔ اللہ پاک کی شان دیکھیں!قائد اعظم کو خود ہندوؤں نے پیغمبر اتحاد قرار دیا تھا گویا ان دونوں عظیم قائدین کا مطالبہ پاکستان محض وقتی یاجذباتی نعرہ نہ تھا بلکہ ہندوؤں کے ساتھ اتحاد کی کوششوں میں طویل جدوجہد کے بعد انہیں اس بات کا عملی مشاہدہ اور اندازہ ہوگیا تھا کہ ہندو مسلم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے کیونکہ یہ دو الگ الگ قومیں ہیں اور دونوں میں اشتراک کی وجوہ بہت کم اور اختلاف کی بنیادی زیادہ گہری اور مضبوط ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب ہندوؤں کے ستائے ہوئے لوگوں کو الگ وطن کی طرف بلایا گیا تو انہیں اس میں کوئی شبہ محسوس نہیں ہوا کہ کوئی خلاف حقیقت بات کی جارہی ہے بلکہ حضرت اقبال اور حضرت قائد اعظم نے مسلمانوں کو خوش خبری سنادی کہ ان کیلئے الگ وطن ہی مسائل کا حل ہے جہاں وہ اپنی شناخت اسلام کے اصولوں کے تحت زندگی بسر کرسکیں گے۔ تحریک پاکستان محض اونچے طبقے کی مسلم زعما کی تحریک ہوتی تو اسے مسلم عوام مسترد کردیتے اور کہہ دیتے کہ ہمیں ہندوؤں کے ساتھ رہنا ہے، یہ محض مسلم عوام کی ضرورت ہوتی اور مسلم قائدین اس سے مانوس نہ ہوتے تو بھی اس کی کامیابی کے امکانات معدوم ہوجاتے، فکر و عمل کی ایسی یکجہتی بہت کم تحریکوں میں دیکھنے میں آئی ہے اس لئے بظاہر ایک ناممکن کام ممکن ہوگیا اور آخر اللہ کے فضل سے پاکستان دنیا کے نقشے پر موجود ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ موجود رہے گا، اللہ پاکستان کو سلامت رکھے اور اسے قرارداد پاکستان کے مقاصد کے حصول میں کامیاب فرمائے۔دسمبر 1943ء میں ایک اجلاس سے مخاطب ہو کر قائد اعظم ؒ نے پوچھا وہ کونسا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحدکی طرح ہو جاتے ہیں ہیں؟وہ کونسی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار کی گئی ہے؟ وہ کونسا لنگر ہے جس سے اس اُمت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے۔ خود ہی جواب دیتے ہوئے فرمایا وہ بندھن، وہ رشتہ، وہ چٹان، وہ لنگر خدا کی کتاب عظیم قرآن مجید ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ہم میں زیادہ سے زیادہ وحدت پیدا ہوتی جائے گی۔ ایک خدا، ایک رسولؐ اس لئے ایک قوم ملت اسلامیہ کو 1945ء میں پیغامِ عید میں فرمایا “مذہبی رسوم ہوں یا روز مرہ کے معمولات، روح کی نجات کا سوال ہویا بدن کی صفائی کا، اجتماعی حقوق کا سوال ہو یا انفرادی واجبات کا، عام اخلاقیات ہوں یا جرائم، دنیاوی سزا کا سوال ہو یا آخرت کے مواخذہ کا، ان سب کے لئے اس میں قوانین موجود ہیں۔اس لئے نبی اکرمؐ نے حکم دیا تھا کہ ہر مسلمان قرآن کا نسخہ اپنے پاس رکھے اور اس طرح اپنا مذہبی پیشوا آپ بن جائے”۔ 13نومبر 1943ء کو مسلمانوں کے باہمی اختلافات کے بارے میں کہا ” ہمارے پاس قرآن کریم ایسی مشعل ہدایت موجودہے تو پھر ہم اس کی روشنی میں ان اختلافات کو کیوں نہیں مٹا سکیں گے”۔آزادی کا حصول کیوں؟ ہمارا دین، ہماری تہذیب اور ہمارے اساس و تصورات وہ اصل طاقت ہیں جو ہمیں آزادی حاصل کرنے کے لئے متحرک کرتے ہیں (23 نومبر 1945ء فرنٹیر مسلم لیگ کانفرنس)۔ مسلم لیگ ہندوستان کے ان حصوں میں آزاد ریاستوں کے قیام کی علمبردار ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے تا کہ وہاں اسلامی قانون کے مطابق حکومت کر سکیں (اسلامیہ کالج پشاور)۔ہندو اور مسلمان بحیثیت دو قومیں: قائد اعظم ہندو اور مسلم گروہوں کو الگ الگ قوم سمجھتے تھے فرمایا “ہم اس کے قائل ہیں اور ہمارا دعویٰ ہے کہ مسلمان اور ہندو دو بڑی قومیں ہیں جو قوم کی ہر نوعیت اور معیار پر پورا اُترتی ہیں ہم دس کروڑ کی ایک قوم ہیں۔مزید برآں ہم ایک ایسی قوم ہیں جو ایک مخصوص اور اور ممتاز تہذیب و تمدن، زبان و ادب، آرٹ اور فن، تمیز احساس، اقدار و تناسب، قانونی احکام و اخلاقی ضوابط، رسم و رواج، قدیم تاریخ اور روایات، رجحانات اور عزائم کی مالک ہے۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ زندگی اور اس کے متعلقات کے بارے میں ہمارا اپنا ایک امتیازی زاویہ نگاہ ہے اور قانون بین الاقوامی کی ہر دفعہ کے لحاظ سے ہم ایک قوم ہیں۔ صوبائی عصبیت ایک لعنت: آپ نے فرمایا کہ ہم مسلمان ہیں اسلام نے ہمیں سبق دیا ہے کہ آپ کہیں بھی ہوں کچھ بھی ہوں، اول اور آخر مسلمان ہیں۔ اسلامی قومیت کا تصور: مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے۔ وطن نہیں اور نہ ہی نسل، ہندوستان کا پہلا فرد جب مسلمان ہوا تو اسی دن ایک قوم وجود میں آ گئی تھی۔ اسلام عدل، حصول آزادی: ہمارا اصل منشاء یہ ہے کہ ایک ایسی مملکت قائم ہو جس میں اسلامی عدل اجتماعی کے اصول آزادی سے برتے جائیں۔ طلباء کی ذمہ داریاں: پاکستان کو اپنے نوجوانوں بالخصوص طالب علموں پر فخر ہے جو ہمیشہ آزمائش کی گھڑیوں میں پیش پیش رہے۔ یہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں ان کو نظم و ضبط اور تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو کر اپنی ذمہ داریوں کا شدت سے احساس ہونا چاہئیے۔(صاحب مضمون، صدر پی ایم ایل این علماء مشائخ فیڈرل کیپیٹل اور راوالپنڈی ہیں)

اپنا تبصرہ بھیجیں