Hakeem Mahmood

خواب غفلت کا شکار مسلم حکمران؟

خواب غفلت کا شکار مسلم حکمران؟
حکیم سید محمود احمد سہانپوری

اخوت اس کو کہتے ہیں چھپے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستاں کا ہر اک پیروجواں بے تاب ہو جائے
بھارتی دارالحکومت دھلی کے شہری علاقے میں تجاوزات کی آڑ مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنائی جاری ہے جبکہ دوسری طرف مسلمان ریاستیں اور حکمران خواب غفلت کا شکار ہیں۔ ٹی وی سکرین چیخ چیخ کر مسلمانوں کی حالت زار پر ماتم کر رہی ہیں۔ مظلوم خواتین کی آہیں اور بوڑھے مسلمانوں کی دھائیاں بھی او آئی سی کے کرتا دھرتا صاحبان کو ”بیدار“ نہ کرسکیں۔غیر ملکی چینل کے ذریعے مہذب دینا تک لاچار خاتون پیغام پہنچا رہی ہے کہ بھارت میں مسلمان ہونا جرم بنتا جارہا ہے یہ بھارت ہے جہاں کبھی سیکولر ازم پر ناز کیا جاتا ہے۔حکمران اور ہندوستانی لیڈر بڑے افتخار سے سیکولر ازم کی توصیف کرتے،وہ بتاتے کہ ہندوستان تمام اقوام کا ایسا مجموعہ ہے جہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو آزادی میسر ہے اس آزاد ماحول نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا سر بلند کر دیا ہے…… جی ہاں یہی وہ سکولر بھارت ہے جسے آج حکمران جماعت بی جے پی اور تشدد پسند ہندوں نے صرف ہندو اسٹیٹ بنایا ہوا ہے اقلیتوں کے گرد مشکلات کا دائرہ بڑھایا جارہا ہے۔اسلام سے خوف زدہ اور مسلمانوں کے دشمن ہندو اپنے دیس میں مسلم سایہ بھی برداشت نہیں کررہے۔ اذان کی آواز، خواتین کے حجاب،گائے ذبح کرنے اور آزادانہ کاروبار کرنے پر کئی مسلمان ہندوں کے مظالم کا شکار ہو چکے ہیں۔ دہلی میں حالیہ مسلم کش فسادات بھی فاشست ہندوں کے مظالم کی ایک کڑی ہے ۔تجاوزات کا بہانہ بنا کر مسلمان تاجروں کی دکانیں مسمارکیجارہی ہیں۔ اپنی برتری اور مرضی کے زعم میں مساجد تک کو نہیں بخشا گیا۔ ہندو غنڈوں کے ہاتھوں مسجد کی شہادت نے مسلمانوں کو مشتعل کر دیا۔ یوں دفاع کے لیے آگے بڑھنے والوں پر اذیت اور ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ پانچ روز قبل غیر ملکی چینل نے ایسی غیر انسانی وڈیو وائرل کی جس میں اونچی ذات کے ہندو نچلی ذات (دلت) کے نوجوان کو بار بار پاؤں چاٹنے اور معافی مانگنے کی مشق کروا رہے تھے۔ یہ ہے بھارت کا وہ بھیانک چہرہ جو بی جے پی کی پہنچان اور تعارف ہے۔حال ہی میں ایک امریکی پروفیسر نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کا ماحول بنایا جارہا ہے مودی سرکار کو بھر پور تجر بہ حاصل ہے کہ فساد پھیلانے کے لیے حالات پیدا کیے جاتے ہیں کردار منظر عام پر لائے جاتے ہیں اس سلسلے میں بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے واقعات دہشت گردی کا ایسا چہرہ ہیں جن کی بنیاد پر اس حکومت کے ایجنڈے کو سمجھنا کسی طور مشکل نہیں تھا بھارت انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے کافی حد تک بد نام ہے امریکہ نے زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے ہمیشہ بھارت کی سرپرستی کی اندرون بھارت مسلم نسل کشی کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے اس ضمن میں عالمی برادری حقائق کو نظر انداز کرکے خون خرا ہے کی منتظر ہے تو یہ امر خطے کے امن و استحکام کے لیے درست نہیں بھارت اقدامات امن کے نام پر جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہیں پاکستان میں امن کے قیام کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اپنے پڑوسی ممالک سے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ نہ کر کے مودی سرکار بڑی مصیبت کو دعوت دے رہی ہے
18 اور 19 رمضان المبارک کو افطاری اور سحری کے لمحات میں اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصی کی بے حرمتی کی۔ نہتے مسلمانوں نے جب اس ناپاک سرگرمی سے روکا تو ان پر تشدد کیا گیا مشتعل نوجوانوں پر ربڑ کی گولیاں فائر کی گئیں۔ اسرائیلی گماشتوں نے دو روز تک خوب تماشہ لگایا اس ظلم زیادتی اور بھیانک سرگرمی کے خلاف بھی امت مسملہ حسب سابق ”خاموش“ ہی رہی۔ چھ ہفتے قبل اسلام آباد میں او آئی سی کے وزارت خارجہ کے اجلاس میں اس عہد کی تجدید کی گئی تھی کہ کسی بھی مسلمان ریاست میں طاقتوروں نے ظلم کا بازار گرم کیا تو پوری شدت سے اس کا جواب دیا جائے گا ابھی اس عہد کی سیاہی خشک نہیں ہوئی کہ سامراج نے دھلی اور فلسطین میں طاقت کی آندھی چلا دی۔ آخر ہم کب تک یوں ہی خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے رہیں گے؟ ہمیں متحدہ رہ کر جواب دینا ہے اگر ہم ظلم نظر انداز کرنے کی روایت پر گامزن رہے تو پھر سامراج شام‘ عراق‘ اور افغانستان کی طرح اپنی پیش قدمی سے اگلا ہدف بھی آسانی سے حاصل کرلے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں