پاکستانی معیشت کا سب سے بڑا چیلنج

پاکستانی معیشت کا سب سے بڑا چیلنج

ڈاکٹر مسرت امین

25 مئی کو آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے معاشی پروگرام کی بحالی کے لئے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان کے معیشت پر منفی سائے منڈلانے لگے۔ہر پاکستانی کے ذہن میں سوال ہے کہ کیا پاکستان میں بھی سری لنکا جیسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے؟
ایک طرف آئی ایم ایف کا بجلی اور پٹرول پر دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے کا مطالبہ دوسری طرف 11 جماعتوں پر مشتمل اتحادی حکومت مشکل فیصلے لینے سے پہلے مقتدر اداروں سے حکومت کی مدت پوری ہونے کی گارنٹی مانگ رہی ہے۔سیاسی غیر یقینی کی صورتحال اسٹاک مارکیٹ اور روپے کی قدر پر بھی اثرانداز ہوتی ہوئی نظر آئی۔صرف ایک ماہ میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 19 روپے کمی ہوچکی ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر تین سال کی کم ترین سطع پر ہیں۔جبکہ صرف اس سال پاکستان نے غیر ملکی ادائیگیوں کی مد میں 20 ارب ڈالر ادا کرنا ہیں۔پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 30 روپے لیٹر اضافے کے بعد بجلی کی قیمت میں بھی 7 روپے یونٹ اضافے سے نہ صرف معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں گی بلکہ پیداواری لاگت بڑھنے سے ایکسپورٹس بھی کم ہونے کا خدشہ ہے۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے پٹرول کی قیمت میں مزید اضافے کے اعلان کے بعد یہ تو واضح ہوچکا کہ اتحادی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔سوال یہ ہے کیا پٹرول،ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان کے معاشی مسائل حل ہو جائیں گے؟
کیا آئی ایم ایف سے قرض ملنے کے بعد معیشت درست سمت میں آجائے گی؟کیا پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ جائے گا؟
آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرنے کے بعد وقتی طور پر پاکستان کو آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر،عالمی بینک سے قریباً 2 ارب ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 1 ارب 75 کروڑ ڈالر کا قرض تو مل جائے گا۔ہم فوری طور پر دیوالیہ ہونے سے بھی بچ جائیں لیکن کب تک؟
کیا عالمی اداروں سے قرض کے بعد معاشی مسائل کا طویل مدتی حل نکل آئے؟
معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جو 17 ارب ڈالر ہوچکا ہے اور تاریخ کا بلند ترین 47 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ پاکستان کی معیشت کے لئے ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ لگڑری آئٹمز کی امپورٹ پر پابندی کے باوجود نہ تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں آرہا نہ تجارتی خسارہ کم ہونے کا نام لے رہا۔اس وقت دنیا کی تمام ترقی پزیر معیشتوں کے لئے توانائی کا بحران سب سے بڑا چیلنج ہے۔اس سال پاکستان کی آئل امپورٹ بل 11 ارب ڈالر اضافے سے 27 ارب ڈالر تک جانے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے بعد پاکستان کی معیشت کسی حد تک مستحکم ہونے کی توقع تو ہے لیکن پٹرول،ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کی مجموعی معیشت سکڑ جائے گی جس کا منفی اثر جی ڈی پی گروتھ پر ہوگا۔اس وقت پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز ریاضی کی کسی مشکل مساوات کی طرح پیچیدہ ہوچکے ہیں۔معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہے تو آئی ایم ایف کی شرائط کو ماننا ہوگا، آئی ایم ایف کی شرائط مانیں تو مہنگائی کے طوفان کا سامنا ہوگا۔مشکل معاشی فیصلوں سے معیشت سکڑنے کا خطرہ۔ یعنی حکومت کو آگے کنواں پیچھے کھائی جیسی مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔
مشکل حالات میں مشکل معاشی فیصلوں کے ساتھ ساتھ غیر روایتی اور پائیدار پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
معاشی عدم استحکام کو ختم کرنے کے لئے سیاسی عدم استحکام کا فوری خاتمہ ناگزیر ہوچکا۔ حکومت کو چاہئے فوری طور پر معاشی ایمرجنسی نافذ کرکے قومی ڈائلاگ کا آغاز کرے جس میں عدلیہ،عسکری قیادت، سیاسی جماعتیں اور تمام سٹیک ہولڈرز شامل ہوں۔پوری قومی قیادت اس وقت تک نہ اٹھے جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز معیشت کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کسی ایک نقطے پر متفق نہ ہوجائیں۔
وزیر خارجہ،عسکری قیادت،سابق وزرائے خارجہ اور سیاسی جماعتوں کی قیادت پر مشتمل وفد تشکیل دیکر سعودیہ عرب، قطر،متحدہ عرب امارات،کویت اور چین جیسے دوست ممالک میں بھیجا جائے۔ دوست ممالک سے قرض کی بجائے ڈیفر پیمنٹ پر سستے تیل اور گیس کی فراہمی کے معاہدے کئے جائیں۔جن ممالک سے پہلے ہی ڈیفر پیمنٹ کا معاہدہ ہے ان سے معاہدے میں مزید رعایتیں لینے کی کوشش کی جائے۔ملک بھر میں فوری طور پر گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے۔ہفتے میں دو چھٹیوں اور مارکیٹیں رات 9 بجے تک بند کرنے سے بھی صرف توانائی کی کھپت میں اربوں روپوں کی بچت ہوگی۔اگر ہم صرف آئل، گیس اور بجلی کی کھپت میں 30 فیصد کمی لے آئیں تو پاکستان سالانہ 12 ارب ڈالر تک بچا سکتا ہے۔اگر ہم صرف آئل کا امپورٹ بل ہی 27 ارب ڈالر سے کم کرکے گزشتہ سال کے برابر یعنی 16 ارب ڈالر پر لے آئیں تو معیشت اپنے ٹریک پر واپس آجائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں