عمران خان کی واپسی

جاوید صدیق

jsiddiq48@hotmail.com

خان صاحب نے چند ہفتے پہلے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں اقتدار سے باہر نکلا تو سڑکوں پر میں اپنے سیاسی مخالفین کے لیے زیادہ خطرناک ہوں گا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1977ء میں اس وقت کی فوجی قیادت سے کہا تھا کہ اگر انہیں اقتدار سے نکالا گیا تو خیبر سے لے کر کراچی تک لوگ انہیں دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ بھٹو کا یہ دعوی غلط ثابت ہوا حالانکہ پانچ جولائی 1977ء کو مارشل لاء لگنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو عوامی سطح پر اور بھی مقبول ہوگئے تھے۔ جب وہ اگست 1977ء میں فوج کی ”حفاظتی حراست“ سے رہا ہونے کے بعد لاڑکانہ سے لاہور کی طرف روانہ ہوئے تو ہزاروں افراد ٹرین کے ساتھ جگہ جگہ بھٹو کا استقبال کرنے کے لیے موجود ہوتے تھے۔ یہی عوامی مقبولیت بھٹو کی زندگی کے خاتمے کا سبب بنی۔ ستمبر 1977ء کا پہلے ہفتے میں انہیں قتل کے مقدمے میں گرفتار کرلیاگیااس مقدمے میں ان کو سزائے موت دی گئی۔
عمران خان اپنے تین سالہ دور میں کوئی بڑی کامیابی تو حاصل نہیں کرسکے لیکن ان کے احتساب کے نعرے میں ابھی بھی جان ہے۔ پاکستان کے لوگ اپوزیشن لیڈروں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان لیڈروں کو عوام نے تین تین مرتبہ حکومت میں آنے کا موقع دیا لیکن ان لیڈروں نے جو کیا اس سے قوم واقف ہے۔ ہر مرتبہ حکومت میں آنے کے بعد ان کے اور ان کے بڑے بڑے حامیوں کے اثاثے کروڑوں سے اربوں میں بدلتے رہے۔ ان ہی لیڈروں نے پاکستان میں انتخابی عمل کو اتنا مہنگا کر دیا کہ اب کوئی بھی متوسط طبقے کا خود الیکشن لڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر الیکشن لڑنے کے لیے بیس سے تیس کروڑ روپے کا خرچ معمولی بات ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہماری قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اس وقت ارب پتی اور کھرب پتی افراد عوام کی نمائندگی کررہے ہیں۔ دانشوروں‘ قانون دانوں‘ بروفیشلز‘ٹیچرز یا دوسرے طبقوں کا کوئی نمائندہ ان اسمبلیوں میں نہیں۔یہ بات سب جانتے ہیں کہ جب سیاست دانوں کا احتساب شروع کیا گیا ہے ان میں سے اکثریت احتسابی نظام کو اپنے ناجائز پیسوں کے ذریعہ بے اثر بنا چکی ہے ایک آدھ کو چھوڑ کر کسی کو بھی کرپشن اور ملک کو لوٹنے کے جرم میں سزا نہیں ہوئی۔ عمران خان یہ دعوی کرتے آئے تھے کہ وہ لوٹی ہوئی ملکی دولت واپس قومی خزانے میں ڈالیں گے۔ اس دعوے کی تکمیل میں انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ اس محاذ پر کیوں ناکام ہوئے؟ وہ خود کہتے ہیں کہ انہیں مافیا کا سامنا ہے۔ مافیاؤں نے انہیں ناکام بنادیا ہے۔ احتسابی اور عدالتی نظام میں کسی بھی ایسے لیٹرے کا احتساب ہونا اور اس سے لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کا سوال بھی نہیں پیدا ہوتا۔
عمران خان اگر احتساب کا ایجنڈا لیکر پھر نکلیں اور لوگوں کو بتائیں کہ لوٹی ہوئی ملکی دولت وہ واپس لینے اور ڈکیتوں کو سزا دلوانے میں کیوں ناکام ہوئے کہ وہ لوگوں کی سپورٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ لوٹ مار کی دولت واپس لینے کے لیے انہیں کوئی ”آؤٹ آف دی باکس“ حل دینا ہوگا۔ ابھی بھی ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کو ختم کرسکتے ہیں جنہوں نے ”آؤٹ آف دی باکس“ حل تلاش کئے۔چین اور ایران کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق تین سو ارب ڈالر پاکستانی سیاست دانوں‘ تاجروں اور سول وملٹری بیورکریٹس کے بیرون ملک کے بنکوں میں موجود یا وہاں اثاثوں کی شکل میں ہیں۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق کالے پیسے‘ یا بلیک منی سے پاکستان میں سیاست دانوں‘ بیوروکریٹس‘ تاجروں اور دوسرے لٹیروں نے دو سوسے تین سو ارب ڈالر رئیل اسٹیٹ کی مد میں زمینوں پر انویسٹ کررکھے ہیں۔ اندرون ملک کالے دھن سے سینکڑوں ارب ڈالر کی زمین اگر نیلام کر دی جائے تو کم ازکم پاکستان ایک سو ارب ڈالر کا قرض یکشمت ادا کرسکتا ہے۔ ملک میں نئے ڈیم بن سکتے ہیں، ترقی کی رفتار تیز ہوسکتی ہے۔ عمران خان اگر اپنے آپ کو ”زیادہ خطرناک“ ثابت کرنے کی تحریک شروع کر دیں تو لوگ ان کا ساتھ دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں