27 رمضان المبارک…نزولِ قرآن۔ لیلتہ القدر

27 رمضان المبارک…نزولِ قرآن۔ لیلتہ القدر
بابو عمران قریشی سہام
imran.tanveer@hotmail.com


قرآن مجید فرقان حمید نوع انسانی کے لئے رشدوہدایت کا وہ سر چشمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام و ہدایات کو تمام و کمال حالت میں لے کر 23 برس کے عرصہ میں نبی آخرالزمان جناب محمد مصطفیٰ ؐ پر وحی کی صورت میں نازل ہوا۔ایک دن حضوراقدس ؐغار حرا میں اپنے رب کی عبادت میں مشغول تھے کہ یکایک آپ ؐ پر وحی نازل ہوئی اور فرشتہ نے آکر کہا۔ ”پڑھو(اے نبی ؐ)اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے۔جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتاتھا(سورۂ العلق آیت نمبر 1 تا 5)اور وحی کا اختتام عہد رسالت کے آخر میں اس آیت کے ساتھ ہوا۔”آج کے دن میں نے مکمل کردیا تمہارا دین تمہارے لئے اور میں نے پوری کردی تم پر اپنی نعمت اور پسند کیا میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے“(سورۂ المائدہ۔3)قرآن کریم انسانوں کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے جو اُس نے اپنے آخری نبیؐ کے ذریعے نسل انسانی تک پہنچایا۔اس کے بھیجنے والے کی کبریائی و بزرگی اور جن پر بھیجا گیا اُن کی عظمت و سر بلندی اور خود اپنے موضوع کی اہمیت و خوبی کے باعث اس کا نام لیتے وقت اسکو قرآن شریف قرآن کریم اور قرآن مجیدبھی کہتے ہیں۔چونکہ اللہ کی یہ آخری کتاب عزت بزرگی اور دانائی کی باتوں سے بھری پڑی ہے اسلئے اسکے ساتھ اس کی خوبیوں کو بھی ملا کر نام لیا جاتا ہے۔اللہ کی اس مقدس کتاب کابنیادی نام قرآن ہے جس کے معنی پڑھنے کی چیز ہیں۔جس طرح اللہ تعالیٰ کے متعدد اسمائے صفات ہیں مثلاً الحی القیوم وغیرہ اسی طرح اسکی اس مقدس کتاب کے صفاتی نام بھی خود اسی کی آیات سے ماخوذ ہیں۔مثلاً الفرقان الکتاب البرھان الھدٰی اور الحکمت وغیرہ۔اسکے ناموں میں وہ خصوصیت مذکور ہے جس نے اس کے نزول کے بعد دوسری تمام الہامی کتابو ں کو منسوح کر دیاہے۔قرآن کریم اللہ کے احکام و ہدایات کو تمام کمال حالت میں لے کر نا زل ہوا اور اسکی حفاظت بھی اللہ نے خود اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ قرآن مجید کی اولین آیات غار حرامیں حضرت جبرائیل ؑ کی زبانی رمضان المبارک میں لیلۃ القدر کو نازل ہوئیں۔جس رات میں اللہ کا آخری پیغامِ ہدایت نازل ہونا شروع ہوا اس سے بڑھ کر خیر و برکت والی رات دور فلک نے نہ دیکھی ہوگی اور نہ دیکھے گا۔ سورہئ البقرہ کی آیت نمبر 185میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا“۔
شب قد ر کی فضیلت سورہئ دخان آیت نمبر3 میں ےْوں فرمائی گئی ہے۔ترجمہ:۔”ہم نے اسے ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے“۔یعنی رمضان المبا رک کی ایک رات جس میں قرآن نازل کیا گیا اْسے لیلۃ القدر یا شب قدر کہتے ہیں۔مفسرین نے جن میں حضرت ابن عباسؓ بھی شامل ہیں نے قرآن نازل کرنے کے دو مطلب لئے ہیں ایک تویہ کہ پورا قرآن پاک حامل وحی فرشتوں کے حوالہ کردیا گیا او ر حالات و واقعات کے مطابق حضرت جبرائیل ؑ اللہ کے حکم سے وقتاً فوقتاً اسکی آیات اور سورتیں حضور نبی کریم ؐ پر نازل فرماتے رہے۔ جبکہ امام شعبی ؒکے قول کے مطابق قرآن کے نزول کی ابتدا لیلۃ المبارکہ سے ہوئی۔دونوں اقوال کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضور اکرمؐ پر نزول قرآن کا سلسلہ لیلۃ القدر کو ہی شروع ہو اتھا۔جسمیں سورہئ العلق کی ابتدا ئی پانچ آیات نازل فرمائی گئی تھیں۔
سورہئ القدر آیت 1تا 5 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ۔”ہم نے اس (قرآن)کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانوکہ شب قدر کیا ہے۔شب قدر ہزار مہینو ں سے زیادہ بہتر ہے۔فرشتے اورروح اس میں اپنے رب کے اُذن سے ہر حکم لے کر اُترتے ہیں۔وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک“۔لیل کے معنی عربی میں رات کے ہیں اور قدر کے معنی بعض مفسرین نے تقدیر کے لیئے ہیں۔لیلۃ القدر کے معنی یہ ہوئے وہ رات جسمیں رب العزت تقدیر کے فیصلے نا فذ کرنے کیلئے اپنے فرشتوں کے سپر د کرتے ہیں۔اس مطلب کی تاکید سورہئ دخان کی آیت۔5سے بھی ہوجاتی ہے۔”اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے“۔جبکہ امام زہری ؒقدر کے معنی تقدیر کے بجائے عظمت و شرف بتاتے ہیں۔وہ اسلئے کہ وہ رات ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔یعنی اس رات کا عملِ خیر ہزار مہینوں کے عمل خیر سے افضل ہے۔ملائکہ سے مراد فرشتے اور روح سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔جن کے فضل و شرف کے باعث ان کا ذکر فرشتوں سے علیحدٰہ کیا گیا ہے۔البتہ فرشتے اور جبرائیل امین ؑ خود نہیں آتے بلکہ وہ اپنے رب کے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ خیر و برکت کا سلسلہ شام سے لے کر صبح تک پوری رات جاری رہتا ہے۔شب قدر کی سب سے بڑی فضیلت تو وہی ہے جو قرآن پاک نے بیان کی ہے اس ایک رات کی عبادت تراسی سال اور چار ماہ کے عبادت سے بھی بہتر ہے۔لیکن اسکی بھی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے روایت ہے کہ حضور اقدس ؐ نے فرمایا۔ کہ لیلۃ القدر میں وہ تمام فرشتے جن کا مقام سد رۃا لمنتہٰی ہے جبرائیل ؑکے ساتھ دنیا میں اُترتے ہیں اور کوئی مومن مرد یا عورت ایسی نہیں جس کو وہ سلام نہ کرتے ہوں۔سوائے اس شخص کے جو شرابی ہو یا سؤر کا گوشت کھاتا ہو۔ایک دن صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ !پہلی امتوں کی عمریں زیادہ ہوتی تھیں اس لئے ان کو عبادت کا وقت زیا دہ مل جاتا تھا جبکہ ہماری عمریں نسبتاًکم ہیں اسلئے عبادت کیلئے وقت کم ملتا ہے آپ ؐ نے فرمایا ”آپ لوگوں پر رب العزت نے بے حد فضل وکرم فرمایا ہے کہ رمضان المبارک کی شب قدر کی عبادت کا درجہ ایک ہزارمہینوں کی عبادت کے برابر رکھاہے“۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ!اگر میں لیلۃ القدر کو پالوں تو کیا کروں آپؐ نے فرمایا ”الھم انک عفو تحب العفوفاعنی پڑھا کرو“۔ حضرت علی ؓ کی روایت ہے کہ نبی اکرم ؐ نے فرمایا ”کہ جس شخص نے عشاء کی نماز با جماعت پڑھی تو لیلۃلقدر کی آدھی رات کا ثوا ب حاصل کر لیا۔او ر جس نے فجر کی نماز بھی با جماعت پڑھی تو پو ری رات عبادت کا ثواب حاصل کرلیا“۔اس شب مبارکہ میں مشرق سے لے کر مغر ب تک امن سلامتی اور حفظ وامان کے جھنڈے گاڑدیئے جاتے ہیں دلوں کے اطمینان کا سامان بہم پہنچتا ہے۔پھر یہ رات خیر ہی خیر ہے اس میں شر کا نام ونشان نہیں۔حضو رپاک ؐ کا فرمان ہے کہ رمضان المبا رک کے آخری عشرے کی طاق راتوں یعنی۔21،23،25،27،29۔اور آخری رات میں تلاش کیا جائے۔کسی ایک رات کا تعین نہ کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اس اوللعزم رات کی سعادتوں سے بہرور ہونے کے شوق میں لوگ زیادہ سے زیادہ راتوں میں جاگ کر ذکر اذکار کریں اور کسی ایک رات پر اکتفا کرکے غافل نہ ہوجائیں۔ویسے علماء سلف کی اکثریت رمضان المبارک کی ستائسویں شب کو ہی لیلۃ القدر ہو نے پر اتفاق کرتی ہے۔ارشاد نبوی ؐ ہے ۔” جو شخص اس مبارک رات میں عبادت کے لئے کھڑا رہے گا اسکے پچھلے گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔اس فضیلت بھری رات میں اپنی عبودیت کاملہ کا اظہار کیلئے وہ طریقہ حصول ثواب اختیا ر کرنا چاہئے جو اسؤ ہ رسول ؐ سے وابستہ ہو۔تاکہ ہم دین و دنیا میں سر خرو ہو سکیں“۔

اپنا تبصرہ بھیجیں