پاکستان: جنت سے کہیں بڑھ کہ حسیں میرا وطن ہے

عمران محمود

manihemani@gmail.com

میرے وطن یہ عقیدتیں اور پیار تجھ پہ نثار کر دوں
محبتوں کے یہ سلسلے بے شمار تجھ پہ نثار کر دوں

بابا جی واصف علی واصفؒ نے فرمایا تھا کہ” پاکستان نورہے اور نور کو زوال نہیں “۔پاکستان کے بسنے والے تمام لوگ جوش و جذبے کی ایک اعلیٰ مثال ہیں۔اصل کمی ہے تو مخلص رہنماؤں کی ورنہ میرے وطن میں تو کوئی کمی نہیں۔ پاکستان نے دنیا پر راج کرنا ہے۔ یہ سچ ہے اور ہم دیکھیں گے۔ اللہ کے خاص کرم سے ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔اس آزادی کے سفر میں لاکھوں جانیں قربان ہو ئیں، کتنے ہی سر کٹے، بازواور ٹانگیں جسم سے جدا ہوئے، کتنی مائیں بیوہ ہوئیں، بہنوں کے سروں سے دوپٹے چھینے گئے، ماؤں بہنوں کی عزتیں نیلام ہوئیں، سفاکی اور درنگی کی انتہا دیکھی گئی۔ راوی کے پانی کا رنگ خون ِ انسانیت میں تبدیل ہو تا دیکھا گیا۔آج ہم لاپرواہ لو گ سمجھتے ہیں کہ بس علامہ اقبالؒ نے پاکستان کا خواب دیکھا، قائداعظمؒ نے پاکستان کا کیس لڑ کر جیتا، پاکستان بن گیا اورچوہدری رحمت علی ؒ نے نام رکھا۔ ایسا ہرگز نہیں،یہ ایک بہت تکلیف دہ، تھکا دینے والا اور انتھک محنت و قربانیوں کاثمر تھا۔پاکستان ہمارے بزرگوں کی نشانی ہے۔ اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ اس پر جان نثار کرنا ہمارا مقصد ہونا چاہیئے۔ اس کی خوشحالی کی لیئے اخلاص کے ساتھ کام کرنا ہماری نیت اور ارادہ ہونا چاہیئے۔ ہمیں اس کی مضبوطی اور حفاظت کے لیئے اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے تا کہ اس کی دیواریں اتنی مضبوط ہوں کہ کوئی دشمن اس کو میلی آنکھ سے دیکھنے کا سوچ بھی نہ سکے۔
پاکستان ہمارا غرور ہے۔اس کی مٹی ہماری عزت ہے۔ یہ ہماری شناخت ہے۔ہم اسکی مٹی پربستے ہیں۔ یہاں اپنے اور اپنے بچوں کے لیئے روزی روٹی کما تے ہیں۔ہم اسی مٹی پر جیتے ہیں اور اسی پر مرتے ہیں۔ یہاں ہمارے پیارے بستے ہیں۔ یہاں ہماری بزرگ ہستیاں دفن ہیں۔ ہمارے آباو اجداد دفن ہیں۔ایک دن ہمیں بھی اسی مٹی میں دفن ہونا ہے اور روزِ قیامت اس مٹی سے اٹھائے جائیں گے۔
ہم پاکستان کا کھاتے ہیں۔ اس کو گالیاں بھی دیتے ہیں۔ یہ ہمارے ہی جملے ہیں کہ اس ملک میں کچھ بھی نہیں۔ اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیاہے۔ ہمارے حالات کی بد حالی میں ملک کا کیا قصور؟ یہ تو ہمارے بزرگوں کی ان تھک کاوشوں اور قربانیوں کا صلہ ہے۔ قصور وار بے مخلص رہنما ہیں۔ ہم جیسے غیر سنجیدہ اور کام چور لوگ بھی مجرم ہیں۔ کبھی ہم بھی تنہائی میں بیٹھ کر خود سے سوال کریں نہ کہ ہم نے پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے لیئے کیا کیا؟ٹریفک قوانین ہم توڑتے ہیں۔ پتنگ بازی جیسے جان لیوا کھیل سے ہم آئے دن لوگوں کی جانیں لے رہے ہیں۔پھر بھی ہم عبرت حاصل نہیں کر رہے۔ کہاں ہیں ہمارے ادارے؟ ون ویلنگ جیسے خطرناک اور شیطانی کھیل سے ہم اپنے ماحول اور معاشرے کو انتشار کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔ہم نے اپنے کم عمر بچوں کو قرآن و حدیث کی کتابوں اور قلم کی بجائے موٹر سائیکل، گاڑی، موبائل، پستول اور لیپ ٹاپ جیسے خطرناک ہتھیار لے دیئے۔اس ملک کی بد حالی اوراس کو تباہ کن معیشت تک پہنچانے میں ہم سب کسی نہ کسی طرح مجرم ہیں۔ اس سب کے باوجود اگر آج بھی ہم اصل کی طرف لوٹ آئیں تو یقین جانیں منزل ہماری ہے۔ہم آسمانوں کے مسافر ہیں۔
ہم جذبہ و جوش کا پہاڑ رکھتے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے، دیکھ کر جسم میں کرنٹ سا دوڑتا ہے۔ جہاں بھی پاکستان کا ترانا گونجتا ہے، سن کر دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، دل ایک عجیب سی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ وطن سے پیار بیدار ہوتا ہے۔ ہمارے لوگ بہت پیارے اور قیمتی ہیں۔ سب کو یکجا کرنے کی ضرورت ہیں۔ہمارے لگ بہت محنتی ہیں بس ان کورستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ منزل تک سب خود ہی پہنچ جائیں گے۔
پاکستان پانچ دریاؤں کی خوبصورت سرزمین ہے۔اللہ کی خاص عنایت ہے کہ یہاں چار موسم پائے جاتے ہیں۔ یہاں مختلف قوموں کے لوگ آباد ہیں۔ اس کی سرزمین قیمتی ہے۔پاکستان کے بہت سے علاقے اپنی خوبی میں ثانی نہیں رکھتے اور دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
یہ وطن ہم سے تقاضہ کرتا ہے کہ اس کی سلامتی کے لیئے ہم سب اللہ کے حضور دعا کریں۔ اللہ کا شکر ادا کریں اور نبی پاک ؐ پر درودسلام بھیجیں کہ جن کی ہستی کی بدولت تما م جہان آباد ہیں
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا،وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہاں کی، جان ہے تو جہان ہے
پاکستان سے محبت کے لیئے خصوصی مجالس، سیمینار اور محافل وغیرہ کا انعقار کیا جائے، جس میں پاکستان کے لیئے کاوشیں کرنے والوں کے بارے میں بتا یا جائے ان کی قربانیوں اور تکالیف و مصائب کا ذکر کیا جائے۔ لہو گرمانے کے لیئے قومی ترانے اور ملی نغمو ں کا اہتما م کیا جائے۔گھروں پر جھنڈے لگا کر اپنے پیار کا اظہار ضرور کریں لیکن اس جھنڈے کو زمین پر کبھی بھی گرنے نہ دیں۔ یہ ہماری آن، بان، شان اور پہچان ہے۔ پاکستان بننے کے عمل کی فلمیں اور ڈرامے وغیرہ بنا کر ٹی وی پر دکھائیں تا کہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو پتہ چلے کہ یہ کتنا کٹھن، دردناک اور دشوار سفر تھا۔
انبیاء کرام علیہ السلام بھی اپنے وطن سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہمارے پیارے آقا رسول پاکِ ؐ کو مکہ سے بہت محبت تھی۔ جب مدینہ میں آپؐ جا بسے تو آپؐ نے مکہ شریف کے لیئے دعائیں کی۔ پس! وطن سے محبت ہمارے ایمان کا کا جزو ہے۔ انشاء اللہ پاکستان نے قیامت تک قائم دائم رہنا ہے اور دنیا پر راج کرنا ہے۔ اپنے ایک ملی نغمے کے دو اشعار:
میں رہوں نہ رہوں، میرا کیاہے
تو نے رہنا ہے تا قیامت میرے وطن
قلبِ عمران نے دیکھے عجب منظر
دل کو پھر بھی ہے بشارت میرے وطن

اپنا تبصرہ بھیجیں