موجودہ دور اور حب الوطنی کے تقاضے

فاطمہ خان, اٹک

حب الوطنی کے معنی وطن سے محبت کے ہیں۔ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ جس جگہ رہتا ہے اس جگہ سے انسیت ہو جاتی ہے۔ اس جگہ، آب وہوا، لوگ حتی کہ وہاں کی چیزوں سے محبت کرنا اس کے فطرت میں شامل ہوتا ہے۔وطن کی محبت ماں کی محبت کی طرح ہے جو ہمیشہ ساتھ رہتی ہے۔ وطن وہ جگہ ہے جہاں انسان کے اپنے آباوجدادکے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ جہاں وہ کھیلا کودا ہو اور جوان ہوا ہو تو بھلا پھر کیوں نہ وہ اس جگہ سے محبت کرے؟ انسان دنیا میں جہاں بھی قدم رکھتا ہے اپنے وطن کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ جب انسان اپنے وطن سے دور ہوتا ہے توتب اس کو وطن سے محبت کا احساس شدت سے ہوتا ہے۔وطن سے محبت کرنے والے کسی انعام کی خواہش نہیں رکھتے وہ اپنے وطن کی بہبود کے لیے ذاتی اغراض ومقاصد کو بے دریغ قربان کر دیتے ہیں۔موجودہ دور افراتفری کا دور ہے۔ جہاں غربت، بے روزگاری، دہشت گردی بڑھتی چلی جارہی ہے اور لوگوں میں ان مساٸل کی وجہ سے نفرت اور کینہ پروان چڑھنے لگا ہے۔ وطن کی محبت پس منظر میں چلی گٸی ہے جبکہ دو وقت کی روٹی انسان کی اولین ترجیح ہو گٸی ہے۔ جس کے باعث وہ حب الوطنی کے تقاضوں کو بھول کر وطن سے غداری کا مرتکب ہونے کو ہے۔ رشوت، سفارش، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ بہت عام سی باتیں ہو گٸی ہے۔ ہر شخص اپنے عہدے اور رتبے سے فاٸدہ اٹھانے کے انتظار میں بیٹھا ہے۔ مجھ جیسے چند گِنے چٌنے لوگ جو اس نظام کی بڑھتے رجحان کو غلط سمجھتے ہیں وہ بھی ایمان کے نچلے درجے پہ ہیں جو اسے صرف زبان سے برا سمجھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آیا ہم سب حب الوطنی کے تقاضے بھول چکے ہیں یا دل کے کسی نہاں گوشے میں کہیں تھوڑی سے محبت، عزت اور قربانی کا جذبہ پوشیدہ ہے۔ یقیناً پوشیدہ ہوگا کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جس نے غفلت کی نیند کے بعد جب بیداری اختیار کی تو ہم کفار سے ٹکرا گٸے۔ ہم ایک الگ اسلامی ملک بنانے میں کامیاب ہو گٸے۔ ہم وطنو جاگو کہ ایک بار پھر بیداری کا وقت آن پہنچا ہے۔ وطن سے محبت کا ثبوت دیجیے۔ ملک سے رشوت، سفارش، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، سرخ فیتے کے نظام کو ختم کریں۔ یہ کہنا مشکل نہیں کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا مشکل ہے۔ خود کو بدل لینا کافی نہیں۔ ہمیں یہ بیداری عام کرنی ہے۔ قاٸداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ نے اپنی بیداری کے بعد اس بیداری کو عوام میں عام کیا۔ان کو علم کی روشنی دی۔ شعور دیا ۔ اسی طرح آج بھی بیداری کو عام کیجیے۔ آپ کا اس نظام کو غلط سمجھنا کافی نہیں۔ آپ کی اصلاح کافی نہیں۔ جتنا ممکن ہو سکے لوگوں میں شعور کو پھیلاٸیے۔ ملک کو ان براٸیوں سے پاک کیجیے۔ ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کیجیے۔ علم حاصل کرنا، نوکری کرنا، کروبار کرنا، ترقی کرنا کافی نہیں۔ انفرادی ترقی سے ملکی ترقی کو سفر طے کیجیے۔ حب الوطنی کو سمجھیے۔ اسے اپناٸیے۔ جس پرچم کو سینے سے لگا کر ہم شان سے چلتے ہیں۔ اس پرچم کی قدرکیجیے۔ کیونکہ
وطن کی محبت وہ حلال نشہ ہے جس میں ہر چھوٹا بڑا سرشار ہو کر جان قربان کر دینے کو ہمہ قت تیار رہتا ہے۔ یہ پاکیزہ جذبہ قدرت کی طرف سے عطا کردہ ہے۔ دین میں بھی حب الوطنی کی تعلیم دی گئی ہے، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے کہ”حب الوطن من الایمان”یعنی وطن کی محبت ایمان کا جز ہے۔علامہ اقبالؔ فرماتے ہیں
؎غربت میں ہوں اگر میں رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو ہمیں وہیں ہی دل ہو جہاں ہمارا
وطن کا ہر ایک واسی اسے اپنی ماں سمجھتا ہے۔ تاریخ عالم محبانِ وطن کے کارناموں اور قربانیوں سے لبریز ہے رستم اور اسفندیار اپنے وطن کی خاطر جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلے۔مولانہ محمد علی جوہر،حکیم اجمل خان ،مولانا آزاداور سب سے بڑھ کر قاٸد اعظم نے وطن کے لیے انتھک محنت کی ان تمام لوگوں کی قربانیوں سے کون واقف نہیں۔اسی کے تحت انہوں نے اپنی زندگی وقف کر دی لیکن یہاں پر اگر میں بات اپنے وطن کے باسیوں کی محبت کی کروں تو ویسی حب الوطنی دیکھنے کو نہیں ملتی اس بات کا جواب میں دے سکتی ہوں کہ ویسی حب الوطنی کیوں نہیں؟یا پھر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی عوام بے بس ہے۔ ایسا ہر گز نہیں۔ یہ آپ کی نظروں کے سامنے ہے کہ اکثر پاکستانی اپنے وطن کی برائیاں کرتے نظر آتے ہیں اور موجودہ دور میں تو سب ہی پاکستان کامقابلہ امریکہ سے کرتے ہیں ہر بات پر کہتے ہیں کہ کاش پاکستان کے پاس یہ چیز ہوتی،فلاں سہولت موجود ہو تی ارے بھٸ اگر پاکستان میں اتنی خامیاں ہیں تو آپ امریکہ کیوں نہیں چلے جاتے۔ پاکستان جس کو دنیا کے نقشے پر ابھرے ابھی صرف 77برس ہوئے ہیں اس کا مقابلہ ایسے ملک سے کرنا جو 237سال پہلے دریافت ہوا بھلاکیونکر درست ہو سکتا ہے۔ خدارا اپنی خودی کو پہچانیے۔ موجودہ دور کی افراتفری کو خود پہ حاوی مت کیجیے۔ ملک کے کچھ کیجیے۔ اپنا فرض ادا کیجیے۔ تا کہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ مملکت میں سانس لیں جیسے آپ نے لینا شروع کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں