عقیدت ومحبت کا رشتہ

عقیدت ومحبت کا رشتہ
جویریہ بنت ربانی
javeriabani@gmail.com

صدقہ فطر کے مستحقین وہی ہیں جو زکوٰۃ لینے کے مستحق ہوں۔صدقہ فطرکی مقدار سوادو سیر گیہوں یا آٹا ہے جسکی قیمت تقریباََ 170روپے بنتی ہے۔ارشادہے کہ ”جو رزق ہم نے تم کو دیا ہواہے پس اُس کو اللہ کے فرمان کے مطابق خرچ کرو۔قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے“ ”اور جو شخص اپنا مال اللہ کی محبت میں دوسروں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے خرچ کرے،یعنی رشتہ داروں یتیموں اور مسافروں پر جوذادِراہ سے محروم رہ جائیں یا سائلوں اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے یہ ہے نیکی اوربھلائی کا کام (دراصل ان اعمال کا نام نیکی ہے)”حضوراکرم کا فرمان عالی شان ہے ”میں اور کسی یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں یوں دو انگلیوں کی طرح قریب ہوں گے“ایک آدمی کا صدقہ فطر ایک ہی فقیر کو دے دے یاتھوڑاتھوڑا کرکے کئی فقیروں کو دے دیاجائے تو دونوں باتیں جائزہیں۔اگر کسی نے عید کے دن بھی فطرانہ ادانہیں کیا تومعاف نہیں ہوگا۔عید کے بعد بھی اداکردینا چاہئے ہمیں اپنے اعمال اور کردار سے امت کو جوڑنا بھی چاہئے اسکا زریعہ صرف قرآن و حدیث پاک ہے۔حضور کریم ؐکی مبارک زندگی کو پڑھنا۔ یہ یاد رکھنا کہ کیسے پیارے محبوب ؐ نے طائف کی وادی میں ہمارے لیے پتھر کھائے۔ تبلیغ ِ دین اور ہماری اصلاح و نجات کے لیے خود لہولہان ہوئے،پتھر کھائے۔ ہم نے آپؐ کی اس عظیم قربانی کی کتنی لاج رکھی؟ آپ ؐ نے ہجرت کی۔ دانت مبارک شہید ہوا۔ اللہ کے دین کے لیے جنگیں کیں۔ کئی کئی دن بھوکے پیاسے رہے۔ اس امت کے لیے ساری ساری رات رب کے حضور دعائیں کیں جو آج ہمیں بھولی پڑی ہے۔ اس امت کو مثال دی کہ پیسے اور دنیا کی عشرت کی خاطر اپنے اللہ سے دور مت ہونااور دین پر قائم رہنا۔ یہ ہمارے آقاؐ کے کردار واعمال حسنہِ بابرکت کی عظیم مثال اور معراج ہے۔دین آج ہمیں آسانی سے مل گیا، گویا پلیٹ میں رکھا ہوا مل گیا،اسی لیے ہمیں قدر نہیں۔ اور ہم سب اپنے حساب سے دین کو اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ تبھی ہم نے اپنی مسجد الگ کر لی، اپنی زندگی کا سٹائل الگ کر لیا۔آج کے دور کی ایک اور اہم بات اور ظلم یہ ہے کہ جس بندے کے پاس چار الفاظ کا علم آ جائے وہ پھر چار بندوں میں اپنے علم کا زعم جھاڑتا ہے۔ یعنی وہ خود کو ہی عقلِ کل سمجھتا ہے اور باقیوں کو ادنیٰ اور کم علم و کم تر۔ وہ خود کو دوسروں سے الگ رکھتا ہے۔ خود کو دوسروں سے برتر سمجھتااور باور کرواتا ہے۔ وہ عام لوگوں کی مجلس سے دوراور بڑے لوگوں کے قریب رہناپسند کرتا ہے۔ یعنی وہ اپنا نیا سلسلہ شروع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یہیں سے فرقے جنم لیتے ہیں۔ جبکہ اللہ پاک قرآن میں فرمایا ہے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اورآپس میں تفرقے میں نہ پڑو۔حضور نبی مکرم ؐ نے اپنے انقلابی خطبہ حجتہ الوداع کے موقعے پر تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا۔ آپؐ نے فرمایاکہ کسی انسان کو کسی دوسرے انسان پر کوئی فوقیت نہیں، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر،کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فوقیت نہیں۔ اگر فوقیت ہے توصرف اعمال کی بنیاد پر۔ اور حدیث کا مفہوم ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ لیکن ہم توفرقے کی آڑ میں مسلمان بھائیوں کو ہی کافر قرار دیتے ہیں۔ امت کو جوڑنے کے لیے ہمیں نفرتیں ختم کرنا ہوں گی۔درسِ محبت کو فروغ دینا ہو گا۔ ایک دوسرے کی مدد کرنا ہوگی۔ جھوٹ اور دھوکہ دہی سے بچنا ہو گا۔ اس سے اتفاق پیدا ہوگا اور اخوت کا رشتہ مضبوط ہو گا۔ غیروں کو چھوڑ کر اپنوں کی طرف لوٹنا ہو گا۔امتِ مسلمہ کے تمام مسالک کو عزت کی نگاہ سے دیکھنا ہو گا۔ سب کے لیے گنجائش چھوڑنا ہوگی۔سب فرقوں میں بہت بہت محترم اور برگزیدہ ہستیاں موجود ہیں۔ کفر کا فتویٰ اتنا سستا نہیں کہ اس کو بیچا جائے۔ یہ بہت حساس اور خطرناک معاملہ ہے۔ ہم پہلے ہی اپنے بزرگان و اکابرین کے ایک دوسرے پر کفر و بدعات کے فتاویٰ سے جان نہیں چھڑا پا رہے۔ بجائے اس کے کہ حق کو جان کر ہم صرف مسلمان کہلوائیں، الٹا اہم انہیں اکابرین کے فتاویٰ اور تحاریر کے دفاع میں لگے ہیں۔ دینِ محمدی ؐکو اختیار کرنا ہوگا۔ ہمیں خود قرآن واحادیثِ نبوی ؐکا مطالعہ کرنا ہوگا۔اللہ پاک نے بھی ہمیں غور کرنے کا حکم فرمایا۔ اس سے دانش و فہم کے دریچے کھلیں گے۔ معرفت حاصل ہوگی۔ روحانیت ملے گی۔ شخصیت پرستی سے جان چھڑوانا ہوگی۔ ہاں مگر پسندیدہ شخصیت سے عقیدت ومحبت کا رشتہ ضروری ہے۔ یہ احترام و فرمانبرداری کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اپنی اس پسندیدہ شخصیت و بزرگ کے علاوہ باقی سب کو غلط سمجھیں، کافر قرار دیں اور ان کی بات ہی نہ سنیں۔ یہ ظلم ہے۔ ہم سے اس بابت پوچھ گچھ ہو گی

اپنا تبصرہ بھیجیں