”غلامی سے حقیققی آزادی تک”

”غلامی سے حقیققی آزادی تک”
محمد حفیظ
mh_mughal13@hotmail.com


حقیقی آزادی کا فرق سمجھنے کیلئے ہمیں برسوں پیچھے جا کر تاریخ کے سنہرے پنوں سے بے حسی، خود غرضی، منافق اور جہالیت کی دبیز گرد کو جھاڑنا ہو گا۔ گو یہ کام کوئی آسان نہیں اس سے ہمارے ہاتھ گندے ہوں گے اور چہرے دھندلا سکتے ہیں معاشرے میں طعنہٰ زنی سے دو چار ہو سکتے ہیں مگر حقیقی آزادی کو سمجھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ان اسباب کا بغور جائزہ لیں جو 23 مارچ 1940 کی قرار داد کا سبب بنے۔ ہمیں وہ محرکات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے آبا? اجداد نے اس وقت کے کچھ احباب کی ناراضگی کے باوجود بھی (چند ایک جو بعد میں پاکستان میں شفٹ بھی ہو گئے تھے) اس کانفرنس کا انعقاد کر کے ایک علیحدہ آزاد اسلامی جمہری ریاست کا مطالبہ اس وقت کے لارڈ صاحب کے سامنے رکھا۔ میں کہتا ہوں کیا ضرورت تھی اس علیحدگی کی جبکہ موجودہ لاہور اس وقت بھی اسی جگہ تھا۔ موجدہ دلی اسوقت بھی اس جگہ تھی۔ انڈیا کا تاج محل صدیوں بعد بھی حتیٰ کہ پاکستان بننے کے بعد بھی اسی جگہ محفوظ ہے تو پھر پاکستان جیسی ایک علیحدہ ریاست بنا کر انہوں نے کیا حاصل کر لیا۔ جبکہ متحدہ بر صغیر میں متحد رہ کر ہم زیادہ محفوظ رہ سکتے تھے ہمارا ملک (بھارت) ٹکڑے ہونے بچ سکتا تھا نہیں ایسا ہر گز نہیں بلکہ اس حقیقت کو بھی سمجھنے کیلئے ہمیں ایک بار تاریخ کے اوراق میں جھانکنا پڑے گا۔ کیونکہ وہ انسان جس کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے وقت کے فرعونوں سے فرمایا تھا کہ لوگوں کو ان کی ماں نے آزاد جنا ہے تم نے انہیں غلام کب سے بنا لیا ہے۔ چناچہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت غلاموں سے بھی بد تر ہو چکی تھی جیسا کہ آج بھی ہم اگر دیکھیں تو انڈیا میں بسنے والے مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن بنی ہوئی ہیں وہ اپنی مرضی اور آزادی سے نہ کوئی کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی عاادت بلکہ انہیں طعنہٰ دیا جاتا ہے کہ تم مسلمانوں کو یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں لہذا پاکستان چلے جائے تمہارے لئے وہ ملک بنا تھا وغیرہ۔ یعنی ہمیں ہمارادشمن بھی بتاتا ہے کہ پاکستان ایک ایسی ریاست کا نام ہے جس میں نہ صرف ہر مسلمان بلکہ ہر مزہب کا آدمی بڑی آزادی سے نہ صرف مذہبی رسومات ادا کر سکتا ہے بلکہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزار سکتا ہے لیکن افسوس آج پاکستان میں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح آقا اور غاامی کا تصور ہنوز قائم ہے اور وہ لوگ اس سسٹم کو بھلا کیونکر ختم کریں گے جن کو بغیر کام کئے کروڑوں وصول ہو رہے ہیں جن کی ضروریات کا خیال رکھنے کیلئے بلا معاوضہ درجنوں غلام چوبیس گھنٹے حاضر رہتے۔
یہ تو آزادی کا وہ بنیادی پہلو تھا جس کی وجہ سے پیارا پاکستان قائم ہوا جہاں اسلامی قانون کا نفاذ ہونا تھا لیکن جیسا میں نے کہا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو پاکستان کے حق میں نہیں تھے لیکن جب پاکستان بنا تو وہ یہاں شفٹ ہونے والوں میں پیش پیش تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو متحدہ ہندوستان میں رہ کر انگریز سرکار کے صف اول قسم کے ٹٹو تھے چناچہ انہوں نے اپنوں ہی کے خلاف غداری کر کے انگریز سرکار سیخوب دولت بنارکھی تھی اور ایک غلام کی حیثیت سے وہ اپنے انگریز آقا سے بہت کچھ سیکھ چکے تھے کہ اپنے سے کمزور طبقے کو کیسے غلام بنا کے رکھا جاتا ہے کیسے ان سے غلاموں والے کام لئے جاتے ہیں لہذا جب وہ اپنے مسروقہ سازو سامان کے ساتھ پاکستان کی نوزائیدہ مملکت میں داخل ہوئے تو انہوں نے وہی آقا اور غلامی والا اصول اپنایا اور لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے لگے جس طرح قائدِ اعظم نے مسلمانوں کو ان کے اسلامی تشخص کو اجاگر کر کے انہیں حقیقت سے آگا کر تے ہوئے ان کیلئے ایک علیحدہ اسلامی ریاست بنائی تھی اسی طرح عمران خان کی شکل میں دوسرا دیدہ ور جب برسوں بعد قوم میں پیدا ہوا تو اس نے اپنی قوم کو ایک بار پھر صرف آزادی نہیں بلکہ حقیقی آزادی کا تصور دیا کہ اے میرے پاکستانیوں خدا کیلئیجاگو اور اپنے حقوق و فرائض کو پہچانو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم ایک آزاد مملکت میں ایک آزاد شہری کی حیثیت سے رہ رہے ہو نہ کہ ایک غلام کی شکل میں۔ تمہارا بھی اس ملک پر حکمرانی کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا دوسرے لوگوں کا۔ لیکن یہاں تو دن کی روشنی میں سر راہ ایک سرکاری آدمی کے اوپر سرعام گاڑی چڑہادی جاتی ہے اور صاحب لوگوں کو اس لئے چھوڑ دیا جاتاہے کہ مرنے والے کا تعلق غلام خاندان سے تھا۔ کیا مجال ہے آج کسی غریب مگر تعلیم یافتہ انسان کی کہ وہ اپنے امیر آقا کے سامنے برابری کی شکل میں بیٹھ بھی سکے وہ اس کے سامنے کوئی بات بھی کر سکے جبکہ الیکشن لڑنا تو ناممکن۔ کون نہیں جانتا ملک میں روزانہ کی بنیاد پر کتنے لوگ مارے جاتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ موجودہ گورنمنٹ سے بڑھکر بھلا اور کیا مثال ہو گی ان لوگوں کو منتخب کرنے والے بھی ہم ہی لوگ ہیں اگر ووٹ نہ دیں تو بھی جاتے ہیں اگر ووٹ دیں تب بھی مارے جاتے ہیں۔ غلامی کی مثال کو سمجھنے کیلئیاتنا کافی ہے پچھلے دنوں سندھ میں جب ایک گاؤں میں آگ لگی تو معصوم بچے زندہ جل گئے جبکہ ان کو بچانے کیلئے کوئی خاطر خواہ بندو بست نہیں تھا جبکہ آقا لوگ کے گھروں کے باہر ایمبولینس چوبیس گھنٹے تیار رہتے ہیں یہ فرق ہے ایک آقا اور غلام میں جبکہ پی پی پچھلے چودہ سال سے لگا تار حکومت میں ہے۔ اللہ کی پناہ لہذا اگر اس غلامی سے حقیقی طور آزادی حاصل کرنی ہے چناچہ ضروری ہے غلامی سے حقیقی آزاد ی تک اپنی جدو جہد کو کامیاب بنانے کیلئیکپتان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں اور بچوں کے مستقبل کو محفوظ کر لیں

اپنا تبصرہ بھیجیں