استاد قوم کا محسن

چوہدری عبید اللہ

معلم،استاد،مرشد،محسن، رہبر، شیخ یا ٹیچرکوئی بھی اصطلاح لیں سب کا بنیادی ماخذ یہی ہے کہ یہ سب ایک ہی کام کرتے ہیں تربیت و اصلاحِ قوم……لہذا استاد کی شخصیت بہت بڑی ہستی ہے۔ استاد رستہ اور سمت دکھاتا ہے۔ استاد مستقبل سنوارتا ہے، استاد زندگی گزارنے کے لیے نمونہ فراہم کرتا ہے۔ استاد کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ معمارِ قوم ہے۔ وہ طالب علموں کو اچھے مقام پر لے کر جانے کے لیے ان تھک محنت کرتا ہے۔ استاد قوم کامحسن بھی ہوتا ہے۔ استاد رہبر بھی ہوتا ہے استاد رستہ بھی ہے…… سات فروری کو عدالت عظمیٰ کے ایک قابل رشک فیصلے سے تعلیمی و تدریسی حلقوں کا دل خوشی سے نہال ہو گیا۔ اللہ کریم ہم سب کو اساتذہ کرام کی توقیر میں اضافہ کی توفیق دے آمین۔ یاد رہے ٹیچر کے ساتھ ناروا سلوک کے نتیجے میں سپریم کورٹ میں ایک پرائیوٹ سکول سے بے دخل طالب علم کے دوبارہ ایڈمشن سے متعلق کیس کی سماعت میں یوئی۔ سپریم کورٹ نے طالب علم ریان احمد کے دوبارہ داخلے کی درخواست مسترد کر کے معاشرے میں استاد کی عزت اور وقار کو بحال کیا ہے۔ قوم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔تفصیلات کے اس اجمال کی یوں ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال اور جسٹس قاضی امین احمد پر مشتمل تین رکنی بنچ نے نویں کلاس کے طالب علم کو اساتذہ اور بچوں سے بدزبانی اور مس کنڈکٹ کی بنیاد پر سکول سے بے دخلی کر دیا تھا۔ بچے کے والدین نے کیس دائر کیا ہوا تھا۔اس کی سماعت ہوئی تو درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ سکول انتظامیہ بچے کو ہمیشہ کے لیے بے دخل نہیں کر سکتی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تعلیم گھر میں بھی حاصل ہو سکتی ہے مگر سکولز ڈسپلن کی پاسداری کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اساتذہ بہترین ججز ہوتے ہیں، جسٹس قاضی امین احمد کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں اساتذہ کا مقام ہی الگ ہے، بچے کے حق میں فیصلہ ہو تو وہ اسکول جا کر کہے گا سپریم کورٹ نے اسے ڈانٹنے سے منع کیا ہے۔استاد بچوں کو غلط کام سے روکنے پر دشمن نہیں بن جاتا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بچہ صبح تیار ہو کر سکول جاتا ہے تو اسے ضابطہ اخلاق کا علم ہوتا ہے۔ انہیں یاد ہے کہ جب انکی کلاس میں کسی نے ایسی حرکت کی ہوتی ہے تو اسے ایسی سزا ملتی کہ کھلیاں پڑ جاتیں۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ (اسی مار اور ڈانٹ)کھلیاں پڑنے کی وجہ آج ہم نے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ اساتذہ کرام کا جائز مقام ہی بچوں کی تربیت ہے۔ استاد اگر کسی بچے کو ڈانٹا ہے اس کا مقصد اصلاح ہوتا ہے۔ کرونا کے دنوں میں آن لائن کلاسز کی وجہ سے بچے سکول نہیں جا سکے جس سے والدین ناخوش تھے کہ بچے بگڑ رہے تھے۔ تعلیمی و تدریسی حلقوں کے مطابق یہ تاریخی فیصلہ ہے جس کے دوررس نتائج ہوں گے۔ طلبہ کی تعلیم و تربیت میں اساتذہ کا کردار قابل ستائش ہے اس فیصلے سے انکی عزت اور وقار میں اضافہ ہو گا۔
حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ‘انسان کے تین باپ ہوتے ہیں ایک وہ جو دنیا میں آنے کا سبب بنتا ہے یعنی حقیقی باپ، دوسرا وہ جو اپنی بیٹی کا رشتہ دیتا ہے یعنی سسر اور تیسرا وہ جو زمین سے اوج ثریا تک پہنچا دیتا ہے یعنی استاد’. سرکار مدینہ ؐنے فرمایا کہ ‘مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے’. استاد کے رتبے اور عظمت کا انداز حضرت علیؓ کے مشہور و معروف قول سے لگایاجا سکتا ہے کہ ‘جس نے مجھے ایک لفظ پڑھایا وہ میرا آقا اور میں اس کا غلام…… یعنی استاد، رہبر، محسن اور سکھانے والے کا بڑا مقام ہے گویا کہ وہ آقا کی مانند ہے اور ہم اس کے غلام۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو استاد کو عزت اور مقام دیتی ہیں۔ جو انسان استاد کا حقیقی احترام کرتا ہے اوراس کی عظمت اعتراف کرتا ہیوہ ضرور بلند مقام پاتا ہے کامیابیاں اس کے قدم چومتی ہیں۔ استاد کی گستاخی اور بے ادبی کرنے والا کبھی بھی دنیا میں کامیاب نہیں ہوا۔ ناکامیاں اس کا مقدر ہوتی ہیں۔ کتابی علم دینے والے استاد کا مقام اور ہے جو روزق کما رہا ہے۔ علم نافع دینے والے استاد کا مقام اور ہے جو دین و دنیا اور آخرت کما رہا ہے۔ دونوں اپنا اپما کام کر رہے ہیں۔ دونوں ہی محترم ہیں۔ دونوں ہی زندگیاں بدل رہے ہیں۔ ایک روزگار دلوانے کے لیے دبیاوی تعلیم پر زور دے رہا۔ دوسرا آخرت سنوارنے کے ساتھ ساتھ حصولِ روزگار کے گر بھی سکھلا رہا ہے۔ لیکن دونوں ہی قسم کیاساتذہ میں کامیاب وہی ہے جو مخلص ہے۔ اخلاص کے بغیر حقیقی مقام نہیں حاصل ہو سکتا۔عیثیت ہمارا ہمارا فرض ہے کہ استاد کا احترام کریں۔ اس کی بے ادبی سے بچیں۔ اس کو اچھے الفاظ میں یاد کریں اور قوم کو چاہیے کے اساتذہ کو جائز مقام دلوانے میں ان کاساتھ دیں (صاحب مضمون: مرکزی صدر نیشنل ایسوسی ایشن آف پرائیوٹ سکولز ہیں)

اپنا تبصرہ بھیجیں