پاکستان میں درآمدہ غیر محفوظ گاڑیوں کے اسباب اور تجاویز

پاکستان میں درآمدہ غیر محفوظ گاڑیوں کے اسباب اور تجاویز
طارق شہزاد چوہدری

chtariqshahzad@gmail.com

وطن عزیز میں محفوظ سڑک پر محفوظ گاڑی،تاحال ایک خواب گراں ہے۔ عالمی سطح پر گاڑی بنانے والی کمپنیوں سے لے کر،صارفین تک کے تمام اداروں میں محفوظ ترین گاڑی سب سے اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اس ضمن پچھلی دو دہائیوں میں عالمی سطح پر بڑا کام ہوا ہے تاہم پھر بھی دنیا میں سالانہ1.25 ملین لوگ ٹریفک حادثات میں فوت ہوجاتے ہیں یہ اوسط 3424افراد روزانہ بنتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں آج بھی سالانہ 13ہزار معصوم صارفین مہنگی در مہنگی غیر محفوظ گاڑیوں کے استعمال کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں، 50ہزار شدید زخمی ہوتے ہیں، ان میں سے ایک خاص تعداد معذور ہوکر سالوں کرمکِ بستر بن جاتے ہیں۔ایسوسی ایشن فار سیف روڈ ٹریول کی 2018ء کی اوسان خطاء رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پچھلے سال 36ہزار لوگ لقمہء اجل بنے۔یہ 98افرادیومیہ کی اوسط بنتی ہے۔
جبکہ ملکی معیشت کو سالانہ سو بلین روپے سے زیادہ مالی نقصان ہوتا ہے۔ مذید اعداد شمار کئلیے آپ (NHA)کا نیشنل روڈ سیفٹی رسالے کا والیم نمبر2، کیپٹل مینجمنٹ لیمیٹیڈ کی2009 ء کی رپورٹ، آٹو مارک کی ویب سائیٹ، آٹو انڈسڑی ڈویلپمنٹ پروگرام کے مندرجات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔اس قابل رحم صورتحال کی مختلف وجوہات ہیں۔جن میں سے بلا روک ٹوک ریکنڈیشنڈ گاڑیوں کی درآمدات،وہیکل سیفٹی پالیسی،قانون سازی کا نہ ہونا، صارفین کی عدم آگہی،اور مینوفیکچرر کمپنیوں کی، حفظان گاڑی کی تکنیکی غرض سے، اقدامات اٹھانے میں عدم دلچسپی شامل ہے۔
2016 میں پا کستان آٹومیٹیو ڈویلپمنٹ پالیسی 2016-2021ء اس وقت کے وزیر ِ صنعت و پیداوار نے ایک ماتحت ادارے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے ذریعے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظور کرواکر متعارف کروائی۔ جس کے مطابق اسکی بنیادی ترجیہات میں سرمایہ کاری کے رجہانات کو فروغ دینے کے ساتھ صارفین کاجانی ومالی تحفظ شامل تھا۔ اسکے نصب العین میں 2021ء تک ملکی سطح پر سالانہ 3لاکھ 50ہزار لائیٹ کمرشل گاڑیوں، 12ہزار ٹرکوں،22سو بسوں، اور 80ہزار ٹریکٹر اور 25لاکھ موٹر سائیکل بنانا تھا۔ کام کا اندازہ اسی سال 2 جون کے اس نوٹیفکیشن سے لگایا جاسکتا ہے،جسکی رو سے تحقیق اور سفارشات کئلیے پاکستان آٹو میٹیو انسٹیوٹ کا ذیلی ادارہ بنایا گیا، ان اسی صفحات میں خیر ہی خیر ہے۔ اس میں 14نکاتی ایکشن پلان کے ساتھ صارفین کی حفاظت سے لیکر ماحول دوستی اور معیار سے لیکر امپورٹ پالیسی پر بات کی گئی ہے۔ مگر آج تک آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ کمیٹیاں اور پروگرام، انفورسمنٹ سیفٹی،اور قیمتوں کے تعین اور ملکی پیداوار،ریگولیٹری اداروں کے قیام کی ساری داستان خوش چمن ابھی سرکاری فائلوں کی گرد چاٹ رہی ہے۔ تاہم ہمارا مقصدِ تحریر ایک مناسب دام اور محفوظ سفر کے لئے، سوار کے واسطے محفوظ گاڑی کی بابت فکر ہے۔عہد جدید میں گاڑیوں کو ان کے حفاظتی معیار کی کسوٹی پر پرکھنے کا آغاز 1958 میں اس وقت ہوا، جب اقوام متحدہ نے ورلڈ فورم فار ہارمونائزیشن آف وہیکل ریگولیشن قائم کیا۔ (UNECE) جو یورپ کے لیے اس کی اکنامک کمیشن کی نمائندہ ایجنسی ہے۔ اس ادارے نے انٹرنیشنل وہیکل سیفٹی اسٹینڈرز متعارف کروائے۔ الغرض جان لیوا حادثات میں مسافروں اور گاڑی کی حفاظت کے لیے بہت سارا کام ہوا۔ روس جاپان، ملیشیا،کوریا،اور انڈیا سمیت دنیا کے کئی ممالک نے،ان کی سفارشات پر مبنی اپنی قومی وہیکل سیفٹی پالیسیاں مرتب کیں۔ انشورنس انسٹی ٹیوٹ آف ہائی وے سیفٹی کے نام سے ایک ادارہ ہے،جو جدیدترین برقی آلات سے آراستہ ایک خاص نظام کے ذریعے دنیا میں گاڑی ساز بڑی کمپنیوں کے ماڈلز جانی اور مالی تحفظ کا جائزہ، آگے، پیچھے، دائیں، بائیں کے ٹکراؤ کی آزمائش کرکے، ان کے محفوظ یا غیر محفوظ ہونے کی درجہ بندی کرتا ہے۔ اس کے مطابق بھارت میں بنی ریگولیشن اتھارٹی 70 فیصد سے زیادہ اپنی سیفٹی پالیسی پر کاربند ہے۔ وہاں (GTR) گلوبل ٹیکنیکل ریگولیشن اور اقوام متحدہ کی ریگولیشن اسٹینڈرز پر مبنی (AISC) آٹومیٹیو انڈسٹری سٹینڈرڈز کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کرکے،لوک سبھا کی ٹیکنیکل اسٹینڈنگ کمیٹی (TSC) کی سپرد کرتی ہے، جو وزارت مواصلات کو اس پر عمل درآمد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے۔پالیسی کے چیدہ چیدہ نکا ت میں سے، (ABS) اینٹی لاک بریکنگ سسٹم(EBD) الیکٹرونک بریک ڈسٹریبیوشن، (ESC) الیکٹرونک اسٹیبلٹی کنٹرول، سیٹ بیلٹ کی یاددہانی، چائلڈ لاک،جیسے سسٹم نمایاں ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں ابھی تلک پاکستان آٹومیٹو پالیسی عمل در آمد انتظار فرمائیے! پر بعین موقوف ہے۔ پرویزمشرف دور کے آغاز 2000 میں حکومت پاکستان نے اس مقصد کے لیے (PSQCA) پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی بنائی۔ تاہم یہ ادارہ بھی سیفٹی سٹینڈرز بنانے میں ناکام رہا۔ ادارے نے صرف دو پہیوں والی گاڑی کہ وہ سیفٹی سٹینڈرز بنائے، جو رجسٹریشن بک پر لکھے ہوتے ہیں۔ ملک میں 117 کمپنیاں موٹر سائیکل بنا رہی ہیں۔ ہر گھر میں ایک موٹر سائیکل ہے۔ اسکی سیفٹی کی قلعی اکثر اوقات ہینڈل لاک والا پیج، موڑ کاٹتے،ہینڈل جام کرتے کھولتا، اپنے سوار کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ اس سیفٹی معیار کی بہتری کے حوالے سے پاکستان انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ بھی کچھ نہ کر سکا۔
ایک لاکھ پینتیس ہزار روپے لینے کے بعد بھی موٹرسائیکل میں الائے رم نہیں ہیں، ڈسک بریک نہیں ہے، فیول گیج نہیں ہے، گئیر انڈیکیٹر نہیں ہے، ڈپر اور ہیزرڈ نہیں ہے. سیٹ نہایت ہی بیکار ہے آدھا گھنٹہ سفر کریں اور تھک جائیں، اگلے. پچھلے شاک نہایت غیر آرام دہ. سائلنسر کا شور بہت زیادہ ہے جس پر اٹھارہ سال کے لڑکے ہی خوش ہو سکتے ہیں کوئی سیریس آدمی یہ موٹرسائیکل نہیں چلا سکتا
پچھلے چالیس سال سے ہونڈا 125 ایک ہی ڈیزائن اور ایک ہی انجن بنا رہی ہے جس کی کوالٹی دن بدن گرتی جاتی ہے اور قیمت ہر سال بڑھتی جاتی ہے.ہر سال ٹینکی ٹاپے پر سٹیکر کا ڈیزائن تبدیل کر کے دو ہزار روپے بڑھا دئیے جاتے ہیں اور اسے نیا ماڈل قرار دے دیا جاتا ہے یوں چالیس سال میں اسی ہزار روپے بڑھ چکے ہیں. وہی موٹرسائیکل جو چالیس ہزار روپے میں ملتی تھی آج ایک لاکھ پینتیس ہزار روپے کی ہو چکی ہے جبکہ کوالٹی نہایت خراب ہے. بہت ہی ہلکا میٹیریل استعمال کیا جاتا ہے موٹرسائیکل کا جسم تو وہی رہتا لیکن وزن گھٹتا جاتا ہے. پوائنٹ گاڑی کا وزن، سی ڈی آئی گاڑی کا وزن اور 2021 ماڈل یورو کے وزن میں ٹھیک ٹھاک فرق ہے.وزن گھٹتا ہے تو سپیڈ بھی بڑھ جاتی لیکن روڈ گرپ ختم ہو جاتی ہے، موٹرسائیکل ستر اسی کی رفتار پر جا کر وائیبریٹ کرنے لگتی ہے اور بندہ ہوا میں اڑتا ہے. پاکستان میں بڑی کمپنیوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں، سٹینڈرڈ اور کوالٹی پیسے دے کر پاس کروا لی جاتی ہے سب کو اس اجارہ داری کے خلاف آواز بلند کرنء چاہیے
کنزیومر رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات کئے گئے۔ سوزوکی، ہونڈا،ٹیوٹا جیسی معروف کمپنیوں کہ خاص ماڈل پاکستان میں الٹس گرینڈی، سوک وی ٹی آئی اور اور اس کا ایچ ٹی سی، اوریل وی ٹی ای ماڈلز میں ائیر بیگ متعارف کروائے ہیں۔ جو کہ حادثے کی صورت میں سامنے اور دائیں بائیں سے حفاظتی طور پر فوری باہر آجاتے ہیں، جو سے سوار کو قدرے جانی تحفظ ملتا ہے۔ جبکہ مہران، کلٹس، جیسی عوامی اورایکس ایل آئی، سٹی، جی ایل آئی، سوئفٹ، جیسی ہائی مڈل کلاس کے زیر استعمال قیمت میں بہت مہنگی گاڑیوں میں ائیر بیگ نہ ہونے کی وجہ سے لوگ جان سے چلے جاتے ہیں۔ سیفٹی فیچرز والی گاڑیوں کی قیمت ذیادہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہنڈائی سانٹا جیسی محفوظ گاڑی کی پاکستان میں قیمت 1 کروڑ86لاکھ ہے،جبکہ بھارت میں 30لاکھ بھارتی روپے ہے جو پاکستانی روپوں میں 63 لاکھ بنتی ہے۔یک ہمارے ہاں بھی تیز رفتاری سے گاڑی اور بنا ہیلمٹ پہنے موٹر سائیکل چلانا دلیری کا کام سمجھا جاتا ہے۔بیشک لوگوں کی تربیت اشہد ضروری ہے،اورپھٹے پرانے ٹائیر، ہوا کا دباؤ،گاڑی کی مینٹینس کی وجوہات کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں تو ان کمپنیوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی ان کمپنیوں سے جڑے ملکی اور غیر ملکی مافیا تک کوتو کوئی آڑھے ہاتھوں لے۔
الحز ن الملال! ان کمپنیوں نے ایک طرف تو قیمتیں بھی عالمی منڈی سے زیادہ کر رکھی ہیں،اور دوسری طرف ان میں لائف سیفٹی کا نام تک نہیں ہے۔ آخر ہم کب تک! ان کمپنیوں کو?ْاپنی قوم کے ہنستے بستے گھر اجاڑنے کے لئے غیر محفوظ گاڑیاں اسمبل کرنے کی اجازت دیتے رہیں گے؟ موت کا یہ رقص ہماری شاہراہوں پر جاری رہے گا؟ ارباب اختیار ہوش کے ناخن کب لیں گے؟ جتنا جلد ممکن ہو سکے،پاکستان آٹو میٹیو ڈویلپمنٹ پالیسی پر عمل در آمد یقینی بنایا جائے۔ گاڑیوں کی لانچنگ سے پہلے کریش ٹیسٹ اور ان میں (ABS) ائیر بیگز،ٹریکشن کنٹرول، ہل ڈرائیو، لین کنٹرول وارننگ،محفوظ فاصلے والے خودکار بریکنگ نظام، پارکنگ سینسرز،کیمرے،فوگ لیمپس جیسے سسٹم گاڑی میں گارنٹی کے ساتھ نصب کرنے اور گاڑی اور مسافر کی حفاظت یقیی بنانے کئلیے پابند بنایا جائے۔
کم از کم امپورٹ کردہ گاڑیوں کیلئے مخصوص ایک ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے۔ جو خالص عوامی فلاح کے جذبہ سے پر عزم صارفین کے لئے نہ صرف کام کرے،بلکہ ملک میں ان کی قیمتوں کا تعین بھی کرے۔پاکستان آٹومیٹیو انسٹیوٹ کو ہنگامی بنیادوں پر سیفٹی سٹینڈرز بنانے کا پابند کیا جائے۔ نشست گفت برخاست خالی جمع کی جگہ عملی اقدامات کے ساتھ ان کمپنیوں کی بھی خبر گیری کی جائے یہ، پاکستان میں سالانہ اربوں کھربوں روپے کا منافع کماتی ہیں۔ان سے باز پرس ہونی چاہیے۔ ہمارے ہاں آج تک کسی بھی ٹریفک آگاہی مہم میں ان کمپنیوں نے ایک ٹکے تک کی سپانسرشپ تک نہیں کی۔کہاں گئی انکی کارپٹ سوشل رسپانسیبلٹی جو ہندوستان میں تو بڑے طمطراق اور طنطنے سے ہوتی ہے۔ خرید و فروخت کے وقت گاڑی کے فٹنس سرٹیفیکیٹ، اسکے ٹیکنیکل آڈٹ، ای ٹیسٹنگ سسٹم،سامنے سے حادثہ کی صورت میں سپنشن اور اسٹیرنگ کے حصے محفوظ بنانے،سیفٹی بارز،(VDIM)سسٹم کے ساتھ عمومی آگاہی کیلئے عالمی اداروں کی خدمات بھی حاصل کی جائیں۔ اداروں کی کپیسٹی بلڈنگ کی ضرورت ہے۔ رہی بات فنڈز کی اس کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا کوئی میکنیزم متعارف کروایا جائے۔
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں وہیکل سیفٹی پر جو قانون 1969 موٹروہیکل آرڈینینس 1965 بنا، اسکی سیکشن 39، موٹر وہیکل رولز،1969 کی شق 35 میں صرف فٹنس سرٹیفیکیٹ کی تجدید کے قانون پر اکتفا کیا گیا تھا۔موٹر وہیکل رولز کا باب نمبر چھ، گاڑی کے آلات، پرزوں، مینٹیننس وغیرہ پر مبنی رہا ہے،یہی نظام چلتا رہا تو ہم میں سے کوئی بھی خدانخواستہ ان غیر محفوظ گاڑیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں